Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 13

  1. وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ﴿13﴾

    1. وَاِذَآاور جب
    2. اُلْقُوْاوہ ڈالے جائیں گے
    3. مِنْهَااس سے۔ کی
    4. مَكَانًاکسی جگہ
    5. ضَيِّقًاتنگ
    6. مُّقَرَّنِيْنَجکڑے ہوئے
    7. دَعَوْاوہ پکاریں گے
    8. هُنَالِكَوہاں
    9. ثُبُوْرًاموت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ جب اس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیئے جائیں گے تو اس وقت اپنی ہلاکت کو پکاریں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ تصویر ہے ان ظالموں کے عذاب دوزخ کی فرمایا کہ جب یہ اس کی کسی نہایت تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیئے جائیں گے تو وہاں وہ اپنی موت کو پکاریں گے۔ یعنی اول تو جگہ تنگ اور پھر اس میں بھی وہ باندھ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر ڈالے جائیں گے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے انھا علیھم مرصدۃ فی عمد ممددۃ (الھمزۃ 9-8) یعنی وہ ان کے اوپر سے بند ہوگی اور وہ اس کے اندر لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔۔ ایک اور مقام میں ان کے لئے سلاسل اور اغلال کا ذکر بھی آیا ہے۔ دعواء منالک ثبورًا ثبور کے معنی موت اور ہلاکت کے ہیں یعنی اس وقت وہ موت کی دہائی دیں گے اس لئے کہ اس عذاب سے رہائی کی واحد شکل جو ان کو نظر آئے گی وہ یہی ہوگی کہ کس طرح موت آئے۔ وہ ان کی زندگی کا خاتمہ کرے لیکن وہاں موت بھی نہیں آئے گی۔ دوسرے مقام میں تصریح ہے کہ وہاں موت ان پر ہر طرف سے پلی پڑ رہی ہوگی لیکن وہ مریں گے نہیں بلکہ برابر لایموت ولا یحییٰ کے غیق میں مبتلا رہیں گے۔