Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 4

  1. اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ﴿4﴾

    1. اِنْ نَّشَاْاگر ہم چاہیں
    2. نُنَزِّلْہم اتار دیں
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. مِّنَ السَّمَآءِآسمان سے
    5. اٰيَةًکوئی نشانی
    6. فَظَلَّتْتو ہوجائیں
    7. اَعْنَاقُهُمْان کی گردنیں
    8. لَهَااس کے آگے
    9. خٰضِعِيْنَپست
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عربیت کا ایک اسلوب آیت میں بظاہر خاضعین کی جگہ خاضعۃ ہونا تھا لیکن اعناقھم میں مضاف الیہ کی رعایت سے خاضعین آیا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اس کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔ پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے تہدید اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کے ساتھ کفار کے لئے دھمکی بھی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لئے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہمارے پاش نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار سکتے ہیں جس کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان لائیں۔ ہمارے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو اختیار و ارادہ کے ساتھ لایا جائے نہ کہ مجبور ہو کر۔ اس میں نبی ﷺ کے لئے یہ تسلی ہے کہ جب ایمان کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے تو آپ ان لوگوں کے مطالبات سے پریشان کیوں ہوں، ان کے معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں !