Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 5

  1. وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ﴿5﴾

    1. وَاور
    2. مَا يَاْتِيْهِمْنہیں آتی ان کے پاس
    3. مِّنْ ذِكْرٍکوئی نصیحت
    4. مِّنَ(طرف) سے
    5. الرَّحْمٰنِرحمن
    6. مُحْدَثٍنئی
    7. اِلَّامگر
    8. كَانُوْاہوجاتے ہیں وہ
    9. عَنْهُاس سے
    10. مُعْرِضِيْنَروگردان
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے یہ اس سے اعراض کرنے والے ہی بنے رہتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 6-5 دو ایسے مریض کی بیزاری اور اس کا انجام یہ ذرا مختلف الفاظ میں وہی مضمن ہے جو سورة فرقان کی آخری آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکیر وتعلیم کے اس سارے اہتمام سے جو رب رحمان نے ان کے لئے کیا مقصود یہی تھا کہ یہ لوگ سوچیں سمجھیں اور زندگی کی صحیح روش اختیار کریں لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جتنی ہی ان کے علاج کی تدبیر کی گئی اتنی ہی دوا اور طبیب سے ان کی نفرت پڑھتی گئی۔ اللہ نے تازہ بتازہ نوبنو اسلوبوں سے ان کو یاد دہانی کی لیکن وہ اعراض کرنے والے ہی بنے رہے اور قرآن و رسول دونوں کا انہوں نے مذاق اڑایا ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انہوں نے ان کی اس روش کے بعد اب ان کے لئے اس کے سوا کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ جس قرآن کا انہوں نے اب تک مذاق اڑایا ہے، اس نے جن نتائج سے ان کو خبردار کیا ہے وہ ایک ایک کر کے ان کے سامنے آئیں چناچہ وہ ان کے سامنے آئیں گے۔