Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 17

  1. فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿17﴾

    1. فَلَا تَعْلَمُسو نہیں جانتا
    2. نَفْسٌکوئی شخص
    3. مَّآجو
    4. اُخْفِيَچھپا رکھا گیا
    5. لَهُمْان کے لیے
    6. مِّنْسے
    7. قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚآنکھوں کی ٹھنڈک
    8. جَزَآءًۢجزا
    9. بِمَااس کا
    10. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَجو وہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو کسی کو پتہ نہیں کہ ان لوگوں کے واسطے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک پوشیدہ ہے ! !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانوا یعلمون (17) یہ ان لوگوں کی شب بیداری اور انفاق کا صلہ بیان ہوا ہے کہ ان کے لئے اللہ نے آنکھوں کی جو ٹھنڈک چھپا رکھی ہے اس دنیا میں اس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ ایک نادیدہ عالم کی زندگی کی خاطر ان لوگوں کی ان جانفشانیوں پر آج جو لوگ ہنس رہے ہیں وہ بھی اس کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے اور اہل ایمان بھی نہال جائیں گے کہ ان کی قربانیوں کا صلہ ان کے اندازوں اور قیاسوں سے کہیں بڑھ کر ملا۔ ’ جزاء بما کانو یعملون۔ یعنی یہ جو کچھ ان کو ملے گا ان کے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کی چند روزہ مساعی کا صلہ ایک ابدی بادشاہی کی صورت میں دے گا اور فرمائے گا کہ یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہے۔ ہر چید یہ جو کچھ ملے گا یہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا فضل لیکن اس کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا ثمرہ قرار دے گا اس لئے کہ آدمی کو اپنے کارناموں کے ثمرات و نتائج سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ کسی دوسری چیز سے نہیں حاصل ہوتی۔