تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 29
قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿29﴾
- قُلْفرمادیں
- يَوْمَ الْفَتْحِفتح (فیصلے) کے دن
- لَا يَنْفَعُنفع نہ دے گا
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓاجنہوں نے کفر کیا (کافر)
- اِيْمَانُهُمْان کا ایمان
- وَلَااور نہ
- هُمْوہ
- يُنْظَرُوْنَمہلت دیئے جائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ فیصلہ کے دن ان لوگوں کا ایمان نفع نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ان کو اس کے بعد مہلت ہی دی جائے گی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانھم ولا ھم ینظرون (29)
یہ ان کے مطالبے کا جواب ہے کہ اگر وہ فیصلہ کے دن کو دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اس کے ظہور کے بعد ایمان لانا کسی کے لئے کچھ نافع نہیں ہوگا اور اس کے بعد کسی کو اس بات کی مہلت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ توبہ و اصلاح کرکے تلافیٔ مافات کرسکے۔ ’ یوم الفتح ‘ سے مراد فیصلہ کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے آگاہ کیا ہے۔ ایک قیامت کے عذاب سے، دوسرے اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر فیصلہ کن عذاب کی شکل میں آتا ہے۔ اوپر جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے وہ ان دونوں ہی صورتوں میں قوم پر فیصلہ کن عذاب کی شکل میں آتا ہے۔ اوپر جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے وہ ان دونوں ہی صورتوں سے متعلق ہے۔ جس طرح قیامت کے ظہور کے بعد کسی کا یمان نافع نہیں ہوگا اسی طرح فیصلہ کن عذاب کے ظہور کے بعد بھی کسی کا ایمان نافع نہیں ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول صرف وہ ایمان ہے جو عقل و بصیرت کی رہنمائی میں، اختیار و ارادہ کی آزادی کے ساتھ، لایا گیا ہو۔ مجبورانہ ایما کی اس کے ہاں کوئی دقعت نہیں ہے۔ اگر مجبورانہ ایمان اس کو پسند ہوتا تو، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے، وہ سب کو ایمان ہی پر پیدا کرتا۔ اس کے لئے ایسا کرنا ذرا بھی مشکل نہیں تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔