تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 142
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ﴿142﴾
- فَالْتَقَمَهُپھر اسے نگل لیا
- الْحُوْتُمچھلی
- وَهُوَاور وہ
- مُلِيْمٌملامت کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس کو نگ لیا مچھلی نے اور وہ سزاوار ملامت تھا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فالتقمہ الحوث وھو سلیم (142)
حوت سے مراد کوئی بڑی قسم کی سمندری مچھلی ہے۔ سمندر میں وہیل اور شارک کے قسم کی مچھلیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو سمو چانگل سکتی ہیں۔ اسی قسم کی کسی مچھلی نے حضرت یونس کو نگل لیا۔ وھو ملیم یعنی یہ افتاد جو ان کو پیش آئی تو وہ اس کے سزا وار تھے اس لئے کہ ان سے ایک ایسا فعل سر زد ہوا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مستحق تنبیہ ٹھہرایا۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اگر حضرت یونس نے جو اقدام کیا تھا وہ ایک نیک جذبہ سے کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے اذن کے بدون کیا تھا اس وجہ سے اس پر ان کی گرفت ہوئی اور گرفت آدمی کے درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے ہوتی ہے اس وجہ سے گرفت سخت ہوئی۔