تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 97
قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ﴿97﴾
- قَالُواانہوں نے کہا
- ابْنُوْابناؤ
- لَهٗاس کے لیے
- بُنْيَانًاایک عمارت
- فَاَلْقُوْهُپھر ڈال دو اسے
- فِي الْجَحِيْمِآگ میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے کہا اس کے لئے ایک مکان بنائو پس اس کو آگ میں جھونک دو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالوا ابنوالہ بنیانا فالقرہ فی الجحیم، فارادویہ کیداً فجعلنھم الاسفلین (98-97)
حضرت ابرایہم کو آگ میں ڈالنے کی سازشوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت
حضرت ابراہیم ؑ کی اس واضح مخالفت کے بعد معبد کے ذمہ داروں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ان کو آگ میں جلا دیں لیکن یہ کام انہوں نے علانیہ کرنے کے بجائے ایک خفیہ چال کے ذریعے سے کرنا چاہا۔ یہ بات فارادوبہ کیداً (پس انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال کرنی چاہی) سے واضح ہوتی ہے کید کی شکل اختیار کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت ابراہیم قابو سے باہر نہ نکل سکیں اور اس کا بھی امکان ہے کہ کسی علانیہ اقدام کی صورت میں حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان کی طرف سے کسی مزاحمت کا اندیشہ رہا ہ۔ بدویانہ دور زندگی میں خاندانی عصبیت بڑی اہمیت رکھنے الی چیز تھی۔ چناچہ قریش آنحضرت ﷺ کے خلاف ایک مدت تک کوئی علانیہ اقدام کرنے سے اسی اندیشہ کے سب سے ہچکچاتے رہے۔
یہ سوال کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی ایک مشکل سوال ہے۔ قرآن اور تورات میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کی روشنی میں اس سوال کا قطعی جواب دیا جاسکے۔ زیر بحث آیات سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ بت خانے کے پروہتوں نے یہ اسکیم بنائی کہ ایک آتشکدہ بنا کر اس میں حضرت ابراہیم کو کسی بہانے لے جایا جائے اور پھر ان کو آگ میں جھونک دیا جائے۔ قرآن کے دوسرے مقام سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کو آگ میں ڈالا بھی گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و رحمت سے ان کو آگ کے ضرر سے محفوظ رکھا اور دشمنوں کی چال ناکام ہوئی۔