تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 75
ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ﴿75﴾
- ذٰلِكُمْیہ
- بِمَا كُنْتُمْاس کا بدلہ جو
- تَفْرَحُوْنَتم خوش ہوتے تھے
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- بِغَيْرِ الْحَقِّناحق
- وَبِمَااور بدلہ اس کا جو
- كُنْتُمْتم تھے
- تَمْرَحُوْنَاتراتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اس سبب سے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے اور اکڑتے رہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کبریائی صرف خدا کے لئے زیبا ہے
یعنی یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے نتیجہ ہے اس بات کا کہ تم زمین میں بلا کسی حق کے اکڑتے اور اتراتے تھے۔ دنیا میں جو چیزیں بھی تمہیں ملیں ان میں سے کوئی چیز بھی تمہاری ذاتی نہیں بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی تھی اس وجہ سے ان کا حق یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے فرمانبردار بنتے لیکن تم نے اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنا ذاتی حق سمجھا اور غرور وتکبر میں مبتلا ہو کر اکڑنے اور اترانے لگ گئے اور اس غرور میں اللہ کے ان رسولوں کی بھی تم نے توہین و تکذیب کی جنہوں نے تمہیں اصل حقیقت کی یاددہانی کرنی چاہی۔
آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے اس وجہ سے صرف اسی کے لئے تکبر زیبا ہے کسی دوسرے کے لئے یہ زیبا نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسرا تکبر کرتا ہے تو یہ ’ بغیر الحق ‘ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رداء اپنے اوپر ڈالنے کی جسارت کر رہا ہے جو شرک ہے۔ ’ الکبریاء رداء ی ‘ میں اسی حقیقت کی یاددہانی کی گئی ہے۔