تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 84
فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ﴿84﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- رَاَوْاانہوں نے دیکھا
- بَاْسَنَاہمارا عذاب
- قَالُوْٓاوہ کہنے لگے
- اٰمَنَّاہم ایمان لائے
- بِاللّٰهِاللہ پر
- وَحْدَهٗوہ واحد
- وَكَفَرْنَااور ہم منکر ہوئے
- بِمَاوہ جس
- كُنَّاہم تھے
- بِهٖاس کے
- مُشْرِكِيْنَشریک کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ان چیزوں کے ہم منکر ہوئے جن کو ہم اللہ کا شریک گردانتے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی رسولوں کے دلائل سے تو وہ نہیں مانے لیکن جب انہوں نے اللہ کا عذاب دیکھ لیا تب وہ پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن چیزوں کو اب تک خدا کا شریک گردانتے رہیت ہے، ان کا ہم نے انکار کیا ! فرمایا کہ ان کا یہ ایمان جو وہ عذاب دیکھ چکنے کے بعد لائے، ان کے لئے کچھ نفع دینے والا نہیں بنا بلکہ عذات نے ان کو پامال کر کے رکھ دیا۔ ایمان معتبر وہ ہے جو عذاب دیکھنے سے پہلے دلائل کی روشنی میں لایا جائے۔ اگر اس کا وقت گزر گیا اور عذاب کی گھڑی سر پر آگئی تو اس وقت کا ایمان بالکل بےسود ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہمیشہ سے اس کے بندوں میں جاری رہی ہے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت اس کا انکار کرنے والے لازماً نامراد ہو کے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک
لاہور
72۔ اگست، 1975 ع
19۔ شعبان، 1395 ھج