تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 35
وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ﴿35﴾
- وَمَا يُلَقّٰىهَآاور نہیں ملتی یہ
- اِلَّامگر
- الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
- صَبَرُوْا ۚصبر کیا
- وَمَا يُلَقّٰىهَآاور نہیں ملتی یہ
- اِلَّامگر
- ذُوْ حَظٍّنصیب والے
- عَظِيْمٍبڑے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ دانش نہیں ملتی مگر انہی لوگوں کو جو ثابت قدم رہنے والے ہوتے ہیں اور یہ حکمت نہیں عطا ہوتی مگر انہی کو جو بڑے نصیبہ ور ہوتے ہیں ! !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وما یلقھآ الا الذین صبرا وما یلقھا الا ذوخظ عظیم (35)
ایک گنج گراں مایہ
ضمیر مفعول کا مرجع یہاں الفاظ میں مذکور نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ حکمت و موعظت ہے جس کی ہدایت اوپر والی آیت میں فرمائی گئی ہے۔ عربی زبان میں اس طرح ضمیر لانے کا طریقہ معروف ہے۔ سورة بقرہ کی آیت 45 وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین کے تحت اس ضمیر کی نوعیت پر ہم بحث کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس حکمت کے حامل صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر صبر کی صفت ہوتی ہے اور یہ حکمت کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک گنج گراں مایہ ہے، بڑے ہی نصیبہ ور ہیں وہ لوگ جو اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں !
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔
ایک یہ کہ اوپر جو بات فرمائی گئی ہے وہ ایک عظیم حکمت ہے۔
دوسری یہ کہ اس حکمت کے حامل صرف وہ لوگ ہو سکتے ہیں جن کے اندر صبر کا جوہر ہو۔ جن کے اندر یہ جوہر نہ ہو وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اس کے طالبوں کو اپنے اندر صبر کی صفت راسخ کرنی چاہئے۔
تیسری یہ کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک لازوال خزانہ ہے اس وجہ سے ہر ہمت ور کو اس لے حاصل کرنے کے لئے بازی کھیلنی چاہئے۔ بڑے ہی خوش بخت و بلند اقبال ہیں وہ لوگ جو اس بازی میں کامیاب ہوجائیں۔