Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 7

  1. الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿7﴾

    1. الَّذِيْنَوہ جو
    2. لَا يُؤْتُوْنَنہیں دیتے
    3. الزَّكٰوةَزکوۃ
    4. وَهُمْاور وہ
    5. بِالْاٰخِرَةِآخرت کے
    6. هُمْوہ
    7. كٰفِرُوْنَمنکر ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو انفاق نہیں کرتے اور آخرت کے تو اصلی منکر وہی ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس کا شریک وسہیم نہیں ہے تو بالکل یکسو ہو کر اسی کی طرف توجہ کرو اور اب تک جس شرک میں آلودہ رہے ہو اس کی معافی مانگو اور اپنے رب حقیقی کی طرف رجوع کرو۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سن لو کہ ان مشرکوں کے لئے ہلاکی و بربادی ہے جو اللہ کی راہ میں انفاق تو کرتے نہیں، بس اپنے مزعومہ سفارشیوں کے بل پر نچنت بیٹھے ہیں۔ فرمایا کہ آخرت کے اصلی منکر یہی ہیں۔ لفظ زکوٰۃ انفاق کے حام مفہوم میں ’ لایوتون الزکوٰۃ میں ’ زکوٰۃ ‘ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ‘ ہے۔ اس مفہوم کے لئے یہ لفظ اسلام کے مکی دور میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ مدنی دور میں آ کر اس کی ایک باضابطہ شکل معین ہوگئی اور پھر اس کا اطلاق اسی پر ہونے لگا۔ یہاں یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس مفہوم میں اس زمانے میں معروف تھا۔ اس جواب کا مدعا یہ ہے کہ قرآن جس عذاب کی دھمکی سنا رہا ہے اس کو لانا تو میرا کام نہیں ہے بلکہ اللہ ہی کا کام ہے البتہ یہ انذار کان کھول کر سن لو کہ جو مشرکین ایمان و عمل صالح کے بجائے اپنے شرکاء و شفعاء پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ان کی ہلاکت ہے۔“ شرک و شفاعت کے ساتھ آخرت کو ماننا اس کے انکار کے حکم میں داخل ہے ’ وھم بالآخرۃ ھم کفرون ‘۔ اس جملہ میں مبتداء کے اعادہ سے حصر کا مضمون پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہوگا کہ آخرت کے منکر یہی ہیں، اس حصر کا فائدہ یہ ہوا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جب یہ آخرت کو مانتے ہیں، اگرچہ شرک و شفاعت کے تصور کے ساتھ سہی، تو کسی نہ کسی درجے میں ان کے اس ماننے کا بھی اعتبار ہونا چاہئے۔ فرمایا کہ ہرگز نہیں، جن لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے شفعاء و شرکاء ان کو بہرحال بخشوا ہی لیں گے خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں وہ آخرت کے ماننے والے نہیں بلکہ اس کے اصلی منکر و مکذب وہی ہیں۔ اس زور و تاکید کے ساتھ اس بات کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے اس عدل اور اس حکمت ہی کی نفی کردی جس پر آخرت کی بنیاد ہے۔ دوسرے اگر منکر ہیں تو محض استبعاد یا شک میں مبتلا ہیں لیکن انہوں نے تو قیامت کا سارا فلسفہ ہی ہدم کردیا۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے شرک کو بھی صاف صاف کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ شرک در حقیقت اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات کی نفی کردیتا ہے جن کی نفی کے بعد خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں بالکل یکساں ہو کر رہ جاتا ہے۔