تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 18
اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ﴿18﴾
- اَوَمَنْکیا بھلا جو
- يُّنَشَّؤُاپالا جاتا ہے
- فِيمیں
- الْحِلْيَةِزیورات (میں)
- وَهُوَ فِي الْخِصَامِاور وہ جھگڑے میں
- غَيْرُ مُبِيْنٍغیر واضح ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ کیا وہ پیدا ہوئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت میں بےزبان ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اومن ینشوا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیر مبین 18
لڑکویں سے متعلق عرب جاہلیت کے احساس کی تشبیہ
یہ ان کے اس احساس کی تعبیر ہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کے دل میں پیدا ہوتا اور ان کی گھٹن کا باعث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ اس سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وہ آئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت کے مقابلوں میں بالکل بےزبان ہے۔
لفظ خصام یہاں مبارزت اور مفاخرت دونوں معنوں پر مشتمل ہے اور عرب جاہلیت ان دونوں ہی چیزوں کے رسیا تھے۔ ان کے ہاں آئے جن جنگیں بھی برپا ہوتی رہتیں اور مفاخرت کے مقابلے بھی ہوتے رہتے جن میں ہر قبیلہ کے خطیب اور شاعر اپنے اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرین میں داد خطابت و شاعری دیتے۔ ظاہر ہے کہ عورت ان دونوں ہی میدانوں میں فرو تر تھی۔ نہ وہ زرہ بکتر اور شمشیر و سناں کی مخلوق تھی اور نہ خطابت و شاعری کی، اس وجہ سے اہل عرب کی نگاہوں میں اس کی کچھ زیادہ اہمیت نہ تھی اور یہ بات کچھ اہل عرب ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اس زمانے میں بھی عورت کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ نمائش کی مجالس ہی میں ہوئی ہے۔ مبارزت اور مفاخرت کے اعتبار سے تو آج بھی وہ ہیں ہے جہاں عرب جاہلیت کے دور میں تھی۔ یہ امر یہاں اچھی طرح محلوظ رہے کہ عورت پر یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان اہل عرب کی طرف سے ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عام ور پر مفسرین نے یہ خیال کیا کہ یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو کلام کے سیاق و پنہ غور کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔