تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 10
فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ﴿10﴾
- فَارْتَقِبْپس انتظار کرو
- يَوْمَجس دن
- تَاْتِي السَّمَآءُآئے گا آسمان
- بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍساتھ کھلے دھوئیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان ایک کھلے ہوئے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فادتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین، یغشی الناس ھذا عذاب الیم (11-10)
ان کے لئے اسی دن کا اتنظار کرو جس دن آسمان ہر ایک کو نظر آنے والے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا جو سب پر چھا جائے گا اور وہ زبان حال سے اعلان کرے گا کہ یہ ایک درد ناک عذاب ہے یہ اس عذاب کی دھمکی ہے جس کا لوگ مطالبہ کر رہے تھے اور جس کو دیکھے بغیر نبی کے انذار کی تصدیق کے لئے تیار نہیں تھے۔
دخان مبین سے کیا مراد ہے
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دخان مبین سے کیا مراد ہے ؟ ذخان کے معنی دھوئیں کے ہیں اور اس کے ساتھ مبین کی فت کا واضح مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ دھواں ایسا ہوگا کہ ہر کہ دمہ اور ہر چھوٹے بڑے کو بالکل نمایاں نظر آئے گا۔ کسی کے لئے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہوگی۔
مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دھواں ظہور قیامت کے وقت ظاہر ہوگا۔ اس کی تائید میں انہوں نے ایک روایت بھی نقل کی ہے لیکن ناقدین حدیث نے اس روایت کو قصہ گویوں کی روایت قرار دے کر اس کی تردید کردی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ روایت آیات کے سیاق وسباق کے بھی خلاف ہے۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ سیاق کلام صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ذکر قیامت کا نہیں بلکہ کسی ایسے عذاب کا ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان کی قوموں پر آیا ہے، جس کی تفصیل عاد ثمود او قوم شعیب وغیرہ کی سر گزشتوں میں گزر چکی ہیں۔
ایک دوسرے گروہ نے اس سے ایک قحط مراد لیا ہے جو ان کے بیان کے مطابق ہجرت کے بعد نبی ﷺ کی بد دعا کے نتیجہ میں قریش پر آیا اور اس نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ لوگ مردار تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور بھوک سے ہر شخص کا یہ حال ہوا کہ آسمان کی طرف لوگ نظر اٹھاتے تو وہ بالکل دھواں ہی دھواں نظر آتا۔
عام طور پر ہمارے مفسرین نے اسی دوسرے قول کو اتخیار کیا ہے لیکن مجھے اس میں کئی باتیں کھٹکتی ہیں۔
اول یہ کہ اپنی پوری قوم کے لئے نبی ں کی طرف سے اس طرح کی بد دعا کا ذکر صرف اس تفسیری روایت ہی میں ملتا ہے۔ اس کے وسا کوئی اور شہادت اس کی موجود نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی قوم کے لئے بد دعا فرمائی ہو۔ آپ کی دعا اپنی قوم کے لئے ہمیشہ یہی رہی کہ رب اھد قومی فانھم لایعلموکن (اے میرے رب، میری قوم کو ہدیت دے کیونکہ یہ لوگ جانتے نہیں) سب سے زیادہ نازک موقع ہجرت کا تھا۔ ہجرت کے موقع پر بعض دوسرے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کے لئے بد دعا کی بھی ہے لیکن نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے اس موقع پر بھی کوئی بد دعا کا کلمہ نہیں نکلا۔ آپ نے فرمایا تو بس یہ فرمایا کہ اے مکہ تو مجھے بہت عزیز ہے لیکن کیا کروں، تیرے فرزند مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ مختلف جنگوں کے مواقع پر بھی، جب کہ قریش اور مسلمانوں کی فوجیں آمنے سامنے ہوئی ہیں، آپ نے جو دعائیں کی ہیں وہ تمام تر اہل ایمان کے لئے ثبات قدم اور حق کے لئے نصرت کے مضمون پر مشتمل ہیں۔ دشمنوں کے خلاف کوئی کلمہ زبان مبارک سے نکلا ہے تو وہ اس سے زیادہ نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ رعب ڈال دے اور ان کے قدموں کو متزلزل کر دے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان مواقع پر بھی کبھی اپنی پوری قوم کے لئے آپ نے بد دعا فرمائی ہ۔
دوسری یہ کہ ہجرت کے بعد سب سے زیاہ نازک موقع حدیبیہ کا موقع ہے جب قریش کی عصبیت، جاہلیت بالکل عریاں ہو کر سامنے آئی اور مسلمانوں کے جذبات ان کے خلاف آخری حد تک مشتعل ہوگئے۔ لیکن اس موقع پر بھی آپ ﷺ نے قریش کے لئے کوئی بد دعا نہیں کی۔ صرف یہی نہیں کہ بد دعا نہیں کی بلکہ مسلمانوں کے مشتعل جذبات کو دبایا اور ان کو جنگ سے روک دیا اور قرآن نے جیسا کہ سورة فتح میں تفصیل آئے گی، اس جنگ کو روک دینے کی حکمت یہ واضح فرمائی کہ جنگ ہوتی تو اندیشہ تھا کہ اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچتا جو دل سے مسلمان تھے لیکن اپنی مجبوریوں کے باعث ابھی مکہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے۔ غور کیجیے کہ جب مکہ کے ان مخفی مسلمانوں ہی کے خیال سے مسلمانوں نے اپنی کھینچی ہوئی تولاریں میانوں میں کرلیں اور نبی ﷺ نے قریش کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرلیا جو صحابہ کے عام جذبات کے خلاف تھا تو انہی اہل مکہ کے لئے کسی ایسے قحط کی بد دعا آپ کیسے کرسکتے تھے جس میں لوگ مردار کھانے تک مجبور ہوجائیں اس قسم کا کوئی قحط نمودار ہوتا تو اس کی زد میں مکہ اور طائف کے سردار ہی تو نہ اتے ! اس کا اصلی حملہ تو غرباء اور عوام پر ہوتا جن کے اندر ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی بھی تھی۔
تیسری یہ کہ نبی ﷺ کو نہ کسی دعا کی ہدایت کی گئی ہے نہ کسی بد دعا کی، بلکہ صبر کے ساتھ ایک ایسے دن کے انتظار کی ہدایت فرمائی ہے جس دن آسمان ایک ایسے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا جو پوری قوم پر چھا جائے گا اور جو زبان حال سے یہم نادی کرے گا کہ یہ وہی درد ناک عذاب ہے جس سے لوگوں کو آگنہ کیا گیا لیکن لوگ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ گویا اس کی نوعیت ایک وعید کی ہے اور وعید حالات کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔ قرآن میں قریش کو بار بار اس طرح کے عذاب سے ڈرایا گیا جس طرح کے عذاب عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ پر آئے لیکن اس قسم کا کوئی عذاب ان پر نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اکثریت ایمان لائی۔ صرف تھوڑے سے اشرار اپنی شرارت پر اڑے رہے جو یا تو اہل ایمان کے ساتھ تصادم میں ختم ہوگئے یا فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے گھٹنے ٹیک دیئے۔
چوتھی یہ کہ قحط کی تعبیر دخان مبین سے کوئی موزوں تعبیر نہیں ہے۔ قحط کا مضمون عربی شاعری کا ایک پامال مضمون ہے۔ جس زمانے میں شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں ملک میں ایک قحط کی سی حالت پیدا ہوجاتی۔ بعض علاقوں میں حالات نہایت سنگین بھی ہوجاتے۔ عرب شعراء اپنے قصائد میں ان حالات کی نہایت مئوثر تصویر کھینچتے ہیں اور مختلف استعارات، کنایات، اور تشبیہات سے پورے حالات نگاہوں کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی شاعر نے بھی کسی شدید سے شدید قحط کو بھی دخان مبین سے تعبیر کیا ہو یا اس کے اثر کو بیان کرنے کے لئے یہ اسلوب بیان اختیار کیا ہو۔
ان وجوہ سے قحط والی روایت اگر صحیح بھی ہے تو اس کا تعلق اس آیت سے نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی قحط پڑا ہو، یہ بھی امکان ہے کہ یہ قحط بہت سخت ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت بھی رہی ہے کہ رسولوں کی بعثت کے دور میں ان کی قومیں ایسی آزمائشوں میں ڈالی گی ہیں جس سے ان کے اندر تنبہ اور انابت پیدا ہو۔ اس سنت کے اشارات قرآن میں موجود ہیں۔ ان تمام امکانات کے باوجود اس آیت کا تعلق کسی ایسے قحط سے نہیں معلوم ہوتا جس کی شدت سے ہر شخص کا یہ حال ہوگیا کہ اس کو آسمان دھوئیں کی شکل میں نظر آنے لگا۔
دخان مبین کی تعبیر سے ذہن اگر منتقل ہوتا ہے تو قحط کی طرف نہیں بلکہ حاصب کے عذاب کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ عرب کی پچھلی قوموں پر رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں بیشتر یہی عذاب آیا ہے۔ عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ کی جو سرگزشتیں پیچھے گزر چکی ہیں ان میں اس عذاب کی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ شعرئاے عرب کے کلام اور قرآن سے اس کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ دخان مبین کی تعبیر سے بہت ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ سیاہ غبار کا ایک ستون سا آسمان کی طرف اٹھتا نظر آتا ہے۔ اس غبار میں جب تک سورج بالکل چھپ نہیں جاتا اس کی شعاعیں بھی اس کے اندر مخلوط ہوتی ہیں جس سے دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے جس کا دھواں آسمان تک اٹھ رہا ہے پھر جب ہوا کا زور بڑھتا ہے اور یہ طوفان کسی طرف کا رخ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابر سیاہ چھا رہا ہے جو بس بسرنے والا ہی ہے۔ پھر یہ ایک ہولناک شکل اختیار کرلیتا ہے اور بستیوں کی بستیوں کو ریت اور کنکر پتھر کی بارش سے ڈھانک دیتا ہے۔ قوم عاد پر جب عذاب آیا تو انہوں نے فضا کے سیاہ غابر کو ابر سیاہ خیال کیا۔ چناچہ سورة احقاف میں ان کا ذکر یوں آیا ہے۔ قلما راوہ عارضا مستقبل او دیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا بل ھوما استعجلتم بہ ط ریح فیھا عذاب الیم (24) (پس جب انہوں نے اس عذاب کو ایک ابر کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہمیں سیراب کرنے والا ہے۔ نہیں بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کے لئے تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ ایک باد تند، جس کے اندر ایک درد ناک عذاب ہے) اسی عذاب کو قوم شعیب کی تباہی کے ذکر میں عذاب یوم الظلۃ، سے تعبیر فرمایا گیا۔ فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلۃ …(الشعرا : 189) (پس انہوں نے اس کی تکذیب کردی جس کے نتیجہ میں ان کو یوم ظلہ کے عذاب نے پکڑ لیا۔) خلۃ چھتری اور سائبان اور شامیانے وغیرہ کے لئے بھی آتا ہے اور ابر کے لئے بھی
حاصب کا عذاب اپنے ابتدائی مرحلہ میں اٹھتے ہوئے ابریا دھوئیں ہی کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس وجہ سے قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ اسی عذاب کی دھمکی ہو۔ یہ دھمکی نہایت واضح الفاظ میں قریش کو عاد اور ثمود وغیرہ قوموں کی سرگزشتیں سنا کردی بھی گی تھی ہم نہایت وضاحت کے ساتھ پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ان قوموں کے عذاب کی نوعیت واضح کرچکے ہیں۔ آگے کی سورتوں کی تفسیر میں بھی یہ تفصیلات آئیں گی۔ وہاں ہم استاذ امام ؒ کی تحقیق بھی اس باب میں انشاء اللہ پیش کریں گے۔
یہ دھمکی جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ مخلافین اگر وسول کی تکذیب کردیں گے تو ان پر عذاب آجائے گا لیکن مشرکین قریش کی اکثریت، جیسا کہ معلوم ہے، آہستہ آہستہ مسلمان ہوگئی اور صلح حدیبیہ کے بعد تو ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ بالتدریج معاندین کا زور بالکل ٹو گیا، یہاں تک کہ فتح مکہ کے بعد یدخلون فی دین اللہ افواجاً (النصر : 2) کی پیشین گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ اس کی صداقت کا مشاہدہ ہر شخص نے اپنی آنکھوں سے کرلیا۔ ظاہر ہے کہ جو دھمکی تکذیب کی شرط کے ساتھ مشروط تھی اس تصدیق کے بعد اس کے ظہور میں آنے کے لئے کوئی وجہ باقی نہیں رہی چناچہ قریش بحیثیت مجموعی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے۔ صرف ان کے وہ اشرار مسلمانوں کی تلواروں کی زد میں آئے جو ان پر حملہ آور ہوئے اور جو تلواروں سے بچ رہے انہوں نے فتح مکہ کے بعد گھٹنے ٹیک دیئے۔