تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 13
اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ﴿13﴾
- اَنّٰىکہاں سے ہے
- لَهُمُ الذِّكْرٰىان کے لیے نصیحت
- وَقَدْ جَآءَهُمْاور تحقیق آچکا ان کے پاس
- رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌرسول مبین۔ بیان کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اب ان کے لئے نصیحت پکڑنے کا کہاں موقع باقی رہا ! ان کے پاس تو ایک واضح کردینے والا رسول آچکا تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انی لھم الذکری وقد حآء ھم رسول مبین، ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون (14-13)
یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آجانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا چ بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لئے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کردی تھی لیکن انہوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اب تو بہ کا وقت گزر چکا توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انہوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے لئے واپس آنے والا نہیں ہے۔
اس قسم کا جواب عذاب کی گرفت میں آجانے والے متکبرین کے لئے جگہ جگہ نقل ہوا ہے۔ بعض متکبرین کو یہ جواب مخاطب کر کے دیا گیا ہے۔ مثلا فرعون کو خطاب کر کے فرمایا : الن وقد عصیت قبل (یونس :91) (اب ایمان لائے ! اس سے پہلے تو تم نے نافرمانی کی) دوسرے مقام میں ہے :
فیقول الذین ظلموا ربنا اخرنا الی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل ط اولم تکرنوآ اقسمتم من قبل مالکم من زوال (ابراہیم : 44) (تو عذاب کی گرفت میں آجانے کے بعد، وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے پکاریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے، ہم تیری دعوت قبول اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ اس وقت ان کو جواب ملے گا کہ کیا تم لوگ اس سے پہلے قسمیں نہیں کھاتے تھے کہ تم کبھی اپنے موقف سے ہٹنے والے نہیں ہوا) آیت زیر بحث میں یہی بات ان سے منہ پھیر کر غائبانہ اسلوب میں فرمائی گئی ہے۔ اسلوب کی یہ تبدلیاں بلاغت کے تقاضوں کے تحت ہوتی ہیں اور اہل ذوق کے لئے یہ چیزیں محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ خطاب کے اسلوب میں شدت اور غائب کے اسلوب میں اعراض کا مضمون نمایاں ہوتا ہے۔
قرآن اور پیغمبر سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لئے قریش کا ایک اشغلہ
آنحضرت ﷺ پر قریش کا یہ الزام کہ آپ کو بعض دوسرے لوگ سکھاتے ہیں اور یہ ان کی غلط سکھائی ہوئی باتیں وحی کے دعوے کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں، بعض دوسرے مقامات میں بھی مذکور ہے۔ یہ الزام قریش نے محض ان لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے ایجاد کیا تھا جو قرآن کے مواد بحث و استدلال سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگ گئے تھے کہ اس قسم کا پر مغز کلام کوئی امی غیبی رہنمائی کے بغیر نہیں پیش کرسکتا۔ اس طرح کے لوگوں کو قرآن سے بدگمان کرنے کے لئے قریش نے یہ اشغلہ ایجاد کیا کہ یہ کلام کسی وحی والہام کا ثمرہ نہیں بلکہ کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ وہ لوگ در پردہ یہ کلام ایجاد کرتے ہیں اور یہ شخص اس کو وحی کے نام سے پیش کرتا ہے۔ مقصود سازش کرنے والوں کا یہ ہے کہ اس راہ سے وہ ہماری قوم میں تفریق پیدا کریں یہ الزام لگاتے ہوئے وہ یہ بھی تاثر دیتے کہ اس سازش میں بعض اہل کتاب اور عجمی بھی شامل ہیں تاکہ اس طرح وہ قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کے خلاف عربوں کے قومی جذبات کو کامیابی کے ساتھ بھڑکا سکیں۔
آنحضرت ﷺ کو مجنون کہنے کی اصل وجہ کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ قریش محسوس کرتے تھے کہ اول تو آپ ﷺ کے دل پر خوف عذاب آخرت کا ایسا غلبہ ہے کہ آپ ﷺ اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت اسی کی یاد دہانی کرتے ہیں۔ دوسرے آپ کے لب و لہجہ میں ایسا اذعان و یقین ہے کہ ہر شخص اس سے متاثر ہو کر یہ سوچنے لگتا ہے کہ اگر یہ شخص اللہ کی طرف سے مامور نہ ہوتا تو اس کو کیا پڑی تھی کہ دوسروں کے غم میں اپنا خواب و خور حرام کرلیتا ؟ لوگوں کے اس تاثر کو دور کرنے کے لئے قریش نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جس طرح بعض لوگوں کو بعض چیزوں کا سودا ہوجایا کرتا ہے، وہ اٹھتے بیٹھتے اسی چیز کی رٹ لگائے رہتے ہیں اور ہر جگہ ان کو وہی چیز نظر آتی ہے، اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا سودا ہوگیا ہے۔ ہر گوشے سے اس کو وہی آتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک خبط و جنون ہے۔ بھلا عذاب ہم پر کدھر سے اور کیوں آجائے گا