تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 17
وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ﴿17﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- فَتَنَّاآزمایا ہم نے
- قَبْلَهُمْان سے قبل
- قَوْمَ فِرْعَوْنَقوم فرعون کو
- وَجَآءَهُمْاور آیا ان کے پاس
- رَسُوْلٌرسول
- كَرِيْمٌکریم۔ عزت والا رسول
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس ایک باعزت رسول آیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-2 آگے کا مضمون …آیات : 33-17
آگے اس بات کی تاریخی دلیل پیش کی گئی ہے جو اوپر کے پیرے میں بیان فرمائی گی ہے۔ قریش کی تنبیہ کے لئے حضرت موسیٰ ؑ اور فعون کی سرگزشت کا اتنا حصہ بالا جمال سنا دیا گیا ہے جس سے ان پر حقیقت واضح ہوجائے کہ فرعون نے خدا کے رسول کے ساتھ جو چال چلی تھی وہی چال قریش کے فراعنہ بھی خدا کے رسول کے ساتھ چل رہے ہیں۔ فرعونیوں کو اللہ نے ان کی چالوں کی سزا دی اور ان کا سارا غرور پامال ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون وجآء ھم رسول کریم (17)
قریش اور قوم فرعون کے حالات میں مشابہت کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کئے ہیں یہاں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج جس طرح کے امحتان میں ہم نے قریش کو ڈالا ہے اسی طرح کے امتحان میں ہم نے اس سے پہلے قوم فرعون کو بھی ڈالا تھا۔ جس طرح ان کو سامان عیش و رفاہیت کی فراوانی حاصل ہوئی اسی طرح ان کو بھی دولت و نعمت کی کثرت عطا ہوئی تھی۔ پھر جس طرح ان کی طرف ایک معزز رسول انذار اور اتمام حجت کے لئے آیا اسی طرح ان کی طرف بھی ایک باعزت رسول آیا ہے۔ اس مشابہت کے حوالہ سے مقصود ظاہر ہے کہ یہ دکھانا ہے کہ جو انجام ان کا ہوا، وہی انجام لازماً ان کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے بھی انہی کی روش اختیار کی۔
اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اس دنیا میں قوموں کو جو دولت شوکت حاصل ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امحتان کے لئے ہوتی ہے۔ وہ یہ سب کچھ دے کر یہ دیکھتا ہے کہ اللہ کی یہ نعمتیں پاکر قومیں اس کی شکر گزاری اور بندگی کی راہ پر چلتی ہیں یا سرکشی اور طغیان کی راہ اختیار کرلیتی ہیں۔ اگر وہ یہ دوسری راہ اختیار کرلیتی ہیں تو مہلت کی ایک مدت ان کو ملتی ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔
عزت و شرف منصب رسالت کا خاصہ ہے
رسول کے ساتھ کریم کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ رسول چونکہ بادشاہ کائنات کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کے پاس آتا ہے اس وجہ سے عزت و شرف اس کے اس منصب کا ایک لازمی تقاضا ہے اس کے متعلق یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ وہ امیر ہے یا غریب اور نہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ فرعون کے شاہی خاندان سے ہے یا نبی اسرائیل کے غریب خاندان سے جن کو فرعون غلام اور ذلیل سمجھتے تھے۔ اس کا اصلی وصف یہ ہے کہ وہ خدا کا سفیر ہے اور جو خدا کا سفیر ہے اس سے معزز خدا کے سوا نہ کوئی اور ہے، نہ ہو سکتا ہے۔