تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 18
اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ﴿18﴾
- اَنْ اَدُّوْٓا(اس نے کہا) کہ حوالے کر دو
- اِلَيَّمیری طرف
- عِبَادَ اللّٰهِاللہ کے بندوں کو
- ۭ اِنِّىْبیشک میں
- لَكُمْتمہارے لیے
- رَسُوْلٌ اَمِيْنٌرسول ہوں امانت دار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس پیغام کے ساتھ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کرو، میں تمہارے لئے ایک معتمد رسول ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان ادوا الی عباد اللہ ط انی لکم رسول امین (18)
اللہ کے بندوں کو کوئی پانا بندہ نہیں بنا سکتا
ان سے پہلے حرف جو محذوف ہے یعنی با عزت رسول اس پیغام کے ساتھ ان کے پاس آیا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کرو۔ یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں فارسل معنا بنی اسرآئیل (طہ : 47) کے الفاظ سے نقل ہوئی ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ اس فقرے میں حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے مطالبہ کی دلیل بھی سمودی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے بندے ہیں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کو اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے اس وجہ سے ان کو میرے ساتھ جانے اور تاکہ ہم اپنے رب کی بندگی جس طرح کرنی چاہتے ہیں بغیر کسی روک ٹوک کے کرسکیں۔ یہ سوال کہ حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے۔ اس تفسیر میں جگہ جگہ زیر بحث آچکا ہے۔ اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات واضح ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے لئے اللہ کی بندگی کی پوری آزادی چاہتے تھے۔ فرعون کے لئے یہ حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بنائے رکھے۔
ایک مخفی تہدید
انی لکم رسول امین یہ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو اطمینان دالیا کہ میں کوئی مدعی اور مفتری نہیں ہوں بلکہ فی الواقع خدا کا رسول ہوں۔ پوری امانت و دیانت کے ساتھ تم کو وہی پیغام پنچا رہا ہوں جو خدا نے دے کر مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے یہ بات مجرد اپنی صفائی میں نہیں فرمائی بلکہ اس کے اندر ایک تہدید بھی مخفی ہے کہ اگر مجھے مفتری قرار دے کر میری تکذیب کی گئی تو اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔ جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے وہ ان لوگوں سے ضرور انتقام لے گا۔