Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 19

  1. وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ﴿19﴾

    1. وَّاَنْ لَّااور یہ کہ نہ
    2. تَعْلُوْاتم سرکشی کرو
    3. عَلَي اللّٰهِاللہ کے مقابلے پر
    4. اِنِّىْٓبیشک میں
    5. اٰتِيْكُمْلایا ہوں تمہارے پاس
    6. بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍکھلی دلیل
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ کہ تم خدا کے مقابل میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے ایک واضح حجت پیش کرتا ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان لاتعلوا علی اللہ، انی اتیکم بسلطن مبین (19) رسول سے بغاوت خدا سے بغاوت ہے یہ اسی پیغام کا حصہ ہے کہ مجھے یہ پیغام پہنچانے کی بھی ہدیات ہوئی ہے کہ خدا کے اس حکم کو سیدھے سیدھے مان لو۔ اگر تم نے سرکشی کی تو یہ سرکشی صرف میرے ہی مقابلہ میں نہیں ہوگی بلکہ یہ اصلاً خدا کے مقابل میں ہوگی اس لئے کہ میری اصل حیثیت یہ ہے کہ میں خدا کا سفیر ہوں۔ انی اتیکم بسلطن مبین سلطان مبین سے اشارہ عصا اور ید بییضاء کے معجزات کی طرف ہے۔ یعنی سفیر الٰہی ہونے کی اپنے پاس نہایت واضح سند رکھتا ہوں اور وہ تمہیں دکھاتا ہوں تاکہ میرے باب میں تمہیں کوئی شک باقی نہی رہے۔ حضرت موسیٰ ؑ چونکہ ایک نہایت سرکش اور جبار بادشاہ کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے ان کو ایسے عجزات سے مسلح فرما دیا تھا جو ان کے مخالفوں پر حجت ہو سکیں۔