تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 20
وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘﴿20﴾
- وَاِنِّىْاور بیشک میں
- عُذْتُمیں پناہ لے چکا
- بِرَبِّيْاپنے رب کی
- وَرَبِّكُمْاور تمہارے رب کی
- اَنْ تَرْجُمُوْنِکہ تم سنگسار کرو مجھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور میں نے اپنے اور تمہارے خداوند کی پناہ مانگی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وانی عذت بربی و ربکم ان ترجمون (20)
ایک بلیغ دعوت اور موثر تنبیہ
یہ بات حضرت موسیٰ ؑ نے اس وقت فرمائی ہے جب ان کے مطالبہ کے تمام قبطیوں میں ایک ہلچل برپا کردی۔ اس وقت ان کو قتل کی دھمکی بھی دی گئی اور یہ اندیشہ بھی پیدا ہوگیا کہ کہیں یہ سرپھری قوم بوکھلا کر آپ کو سنگسار ہی نہ کرے۔ اس وقت آپ کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے اگر تم لوگ مجھے سنگسار کرنے کی نیت رکھتے ہو تو میں اپنے کو اس رب کی پناہ میں دیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ وربکم (اور تمہارا بھی رب ہے) کے الفاظ میں ایک مئوثر اپیل بھی ہے، نہایت بلیغ دعوت بھی ہے اور نہایت پروقار تبیہ بھی اور ساتھ ہی اس میں یہ طنز بھی مخفی ہے کہ اس خناس کے کہے میں آ کر جو تمہارا رب اعلیٰ بنا ہوا بیٹھا ہے کوئی ایسی حرکت نہ کر گزرنا جو تمہاری ساری قوم کا بیڑا ہی غرق کر دے۔