تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 32
وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ﴿32﴾
- وَلَقَدِاور البتہ تحقیق
- اخْتَرْنٰهُمْترجیح دی تھی ہم نے ان کو
- عَلٰيباوجود
- عِلْمٍعلم کے
- عَلَي الْعٰلَمِيْنَجہان والوں پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کو دنیا والوں پر ترجیح دی جان بوجھ کر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولقد اخترنھم علی علم علی العلمین (32)
جو قوم شریعت کی حامل ہوتی ہے وہی خلق کی رہنمائی کی اہل ہوتی ہے
یعنی فرعون اور اس کی قوم کو تو ہم نے غرق دریا کیا اور بنی اسرائیل کو جو ان کے قدموں کے نیچے پامال ہو رہے تھے، اہل عالم کی رہنمائی کے لئے انتخبا یا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ جو قوم خدا کی شریعت کی حامل بنائی جاتی ہے فطری طور پر وہی اہل اور حقدار ہوتی ہے اس بات کی کہ وہ خلق کی رہنمائی کیر۔ اس کا یہ منصب مشروط ہوتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ ادا کرے اگر وہ یہ ذمہ داری ادا نہ رے تو اللہ تعالیٰ اس سے یہ منصب چھین کر دوسروں ک کے حوالہ کردیتا ہے۔ ایک خاص دور میں بنی اسرائیل کو یہ منصب حاصل ہا لیکن جب وہ اس کے اہل نہیں رہے تو وہ معزول کردیئے گئے اور ہدایت خلق کی ذمہ داری ملت مسلمہ کے سپرد ہوئی۔
تاریخ کا ایک فلسفہ
علی علم کے الفاظ سے تاریخ کے اس فلفہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں قوموں کا عزل و نصب اتفاقی واقعات کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی کسوٹی پر جانچ کر جس قوم کو اہل پاتا ہے اس کو منتخب کرتا ہے اور جس کو نااہل پاتا ہے اس کو رد کردیتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو معزول ہوئے ہیں وہ دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنی نالائقی پر سرپیٹیں اور جو اقتدار پر آئے وہ فخر و غرور میں مبتلا ہونے کے بجائے خدا کے شکر گزار ہوں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اس دنیا کے عروج پر زوال کا سارا نقشہ اللہ تعالیٰ مرتب کرتا ہے اور اس کی بنیاد تمام تر قوموں کے اخلاق و کردار پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم بےخطا اور اس کی حکمت بےلاگ ہے۔
بنی اسرائیل کے لئے ایک اہم تنبیہ
ان آیات کے اندر بنی اسرائیل کے لئے جو ان آیات کے زمانہ نزول میں قرآن اور پیغمبر ﷺ کی مخالفت کے لئے کمریں کس رہے تھے، نہایت اہم تنبیہ ہے جس کی وضاحت کی رضورت نہیں ہے۔ اگر وہ ایک ہی نکتہ سمجھ گئے ہوتے کہ ان کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بنیاد پر کیا تھا اور اب اس کے علم ہی کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اس کے اہل نہیں رہے تو وہ اس انجام بد سے بچ جاتے جو اسلام کی مخالفت کے نتیجہ میں ان کے سامنے آیا۔