Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 34

  1. اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ﴿34﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. هٰٓؤُلَآءِیہ لوگ
    3. لَيَقُوْلُوْنَالبتہ کہتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ بڑے جزم کے ساتھ کہتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-4 آگے کا مضمون … آیات 57-34 آگے کی آیات میں قریش کی سرکشی کے اصل سبب پر روشنی ڈلی گئی ہے کہ یہ لوگ اس دنیا کی زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا تصور نہیں رکھتے اس وجہ سے اپنے حاضر میں مگن اور مستقبل سے نچنت ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے پہلے قانون جزاء و سزا کے عقلی و فطری دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اہل کفر و اہل ایمان دونوں کے انجام کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ان ھولآء لیقولون ان ھی الا موتننا الاولی وما نحن بمنشرین (35-34) کفار کا زعم یعنی یہ لوگ بڑے عزم و جزم کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت وغیرہ کا ڈراوا محض ایک ہوا ہے۔ بس یہی موت، جس سے اس دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ یہی اول موت بھی ہے اور یہی آخر بھی۔ اس کے بعد نہ کوئی موت ہے، نہ کوئی زندگی۔