تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 36
فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿36﴾
- فَاْتُوْاپس لے آؤ
- بِاٰبَآئِنَآہمارے باپ دادا کو
- اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
- صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو لائو ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قالوا بابآئنا ان کنتم صدقین (36)
کفار کی واحد بےبنیاد دلیل
اپنے اس دعوے کی تائید میں وہ اہل ایمان سے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر موت کے بعد زندگی ہے تو تمہاری سچائی ہم اس وقت تسلیم کریں گے جب تم ہمارے وفات پائے ہوئے بزرگوں میں سے کسی کو زندہ کر کے دکائو۔ یہی مضمون سورة جاثیہ میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کان ججتھم الا ان قالوا ائتوا بابآئنا ان کنتم صدقین (الجاثیۃ :25) (اور جب ان کو موت کے بعد کی زندگی کے حق میں ہماری روشن دلیلیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو واحد دلیل جو وہ اس کے مقابل میں پیش کرتے ہیں وہ ان کا یہ قول ہوتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھائو) قرآن نے اس دلیل کو ان کی واحد دلیل قرار دیا ہے اور اس کا حوالہ دے کر اس کو نظر انداز کردیا ہے۔ کوئی تردید اس کی نہیں کی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان کی واحد لیل جس پر ان کو بڑا ناز ہے، یہ ہے اس کی نعویت اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔