تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 37
اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴿37﴾
- اَهُمْ خَيْرٌکیا وہ اچھے ہیں
- اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍیا تبع کی قوم
- وَّالَّذِيْنَاور وہ لوگ
- مِنْ قَبْلِهِمْجو ان سے پہلے تھے
- اَهْلَكْنٰهُمْہلاک کردیا ہم نے ان کو
- ۡ اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْا مُجْرِمِيْنَمجرم تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا یہ بہتر حالت میں ہیں یا قوم تبع کے لوگ اور وہ لوگ جو ان سے پہلے گزرے ؟ ہم نے ان کو ہلاک کردیا، بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اھم خیرام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین (37)
قوم تبع سے مراد تبابعہ یمن ہیں جن کی ماذی شوتک و عظمت اور ذہنی صلاحیتوں کی عرب میں بڑی شہرت رہی ہے۔ عرب شعراء ان کی عظمت کا چرچا بہت کرتے ہیں۔
قوموں پر جب خدا کا عذاب آتا ہے تو وہ اپنے ہی اسلحہ سے خودکشی
قرآن نے قریش کے مذکورہ بالا مطالبہ کے جواب میں ان سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ تائیں کہ مادی شان و شوکت اور ذہنی و عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے وہ برتر ہیں یا تبابعہ برتر تھے ؟ اگر وہ برتر تھے اور اس برتری کے باوجود خدا نے ان کو تباہ کردیا، نہ ان کے مادی قوت و وصولت ہی خدا کی پکڑ سے ان کو بچاسکی نہ ان کی ذہانت ہی ان کے کچھ کام آئی تو آخر یہ کس بل بوتے پر اس غرے میں مبتلا ہیں کہ کوئی ان کو ہلا نہیں سکتا ؟ جب خدا نے ان سے زیادہ زور آوروں کی گردن توڑ دی تو ان کی گردن کیوں نہیں توڑ سکتا ؟ یہی حال ان سے پہلے کی دوسری قوموں کا بھی ہوا۔ عاد وثمود وغیرہ اور بعض دوسری قومیں ہر اعتبار سے ان سے برتر تھیں لیکن جب انہوں نے خدا سے سرکشی کی تو خدا کے ان کا نام و نشان مٹا دیا تو آخر ان کے ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ بہ خدا کے چہیتے بنے رہیں گے اگرچہ سرکشی میں ان سے بھی چار قدم آگے نکل جائیں ؟ خدا کی میزبان میں وزن قوموں کے اخلاق و کردار کا ہے، ان کی مادی دولت و ثروت اور ان کی شاندار عمارتوں کا نہیں ہے اور نہ ان کے میزائلوں پر ایٹم بموں کا ہے۔ جب قوموں کا کردار فاسد ہوجاتا ہے تو ان کے انہی بموں کو، جو وہ دوسروں کو تباہ کرنے کے لئے بناتی ہیں خود ان یہ کے سروں پر دے مارتا ہے اور وہ اپنے ہی بنائے ہوئے اسلحہ سے خودکشی پر مجبور ہوتی ہیں۔
دنیا میں قوموں کو سزا ملنا آخرت کے عذاب کی دلیل ہے
دنیا میں خدا کے قانون مجازات کی مثالیں موجود ہیں اور اتنی کثرت سے موجود ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے تو آخر ایک ایسے روز جزاء و سزا کے بارے میں کیوں شک کیا جائے جس دن خالق کائنات افراد کو بھی اسی طرح جزا یا سزا دے جس طرح اس نے دنیا میں قوموں کو جزا یا سزا دی ہے۔ وما خلقنا السموت والارض وما بینھما یعبین، ماخلقنھا الا بالحق ولکن اکثرھم لایعلموکن (39-38)
آخرت خدا کی صفات کا لازمی تقاضا ہے
اوپر جزاء و سزا کید لیل تاریخ اور آفاقت کے آثار و شواہد سے پیش کی گئی ہے۔ اب یہ خدا کی صفات اور ان کے اخلاقی و عقی تقاضوں سے اس پر دلیل لائی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل تماشے کے طور پر نہیں بنایا ہے بلکہ ایک برترغایت اور ایک مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا یہ۔ اس مقصد حق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو اور اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں اس کا خالق ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے اس میں اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کی نافرمانی کی ہو۔ اگر اس طرح کا کوئی دن نہ آئے، یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے یا یوں ہی ایک دن تمام ہوجائے، نہ اس کے نیکوں کو کوئی انعام ملے نہ بدوں کو کوئی سزا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کا خالق نعوذ باللہ، کوئی کھلنڈرا ہے جو آسمانوں پر بیٹھا ہوا ظلم و مظلومی کا تماشا دیکھ رہا ہے اور جب اس کا جی اسے تماشے سے بھر جائے گا تو اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا یا یوں ہی یہ تماشا جاری رہے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال اس کائنات کے حکیم و رحیم خالق سے متعلق ایک ایسا سوء ظن ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اکثریت اس میں مبتلا ہے اور لوگ اس کے نتائج سے بالکل بیخبر ہیں۔
اس خیال کی گمراہیوں پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم مفصل بحث کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں اشارہ پر کافیت کرتے ہیں۔