Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 5

  1. اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ﴿5﴾

    1. اَمْرًاایک حکم
    2. مِّنْ عِنْدِنَاہماری طرف سے۔ ہمارے پاس سے
    3. اِنَّابیشک ہم
    4. كُنَّا مُرْسِلِيْنَتھے ہم بھیجنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
خاص ہمارے امر سے۔ بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
امراض عندنا ط انا کنا مرسلین (5) امراً کا نصب علی سبیل الاختصاص ہے اور مقصود اس سے اس تقسیم امور کی اہمیت و عظمت کو واضح فرمانا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے خاص امر الٰہی سے ہوتا ہے۔ اس میں کسی اور کو دذخل نہیں ہوتا اس وجہ سے بندوں پر واجب ہے کہ اس کو کائنات کے بادشاہ حقیقی کے خاص فرمان کی حیثیت سے قبول کریں اور سچے جذبہ انقیاد کے ساتھ اس کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ اگر انہوں نے اس کو رد کیا۔ اس کا مذاق اڑایا اور اس کی تکذیب کی تو یاد رکھیں کہ یہ اس کائنات کے بادشاہی حقیقی سے بغاوت ہوگی جس کی سزا بڑی ہی ہولناک ہے۔ ان پیشن گوئیوں کی طرف اشارہ جو انبیاء سے منقولی ہیں انا کنامرسلین یہ بالکل انا کنا مذرین کے ہم وزن جملہ ہے جس طرح اوپر والی آیت میں قرآن کے نزول کا مقصد انذار بتایا ہے اسی طرح اس آیت میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات پہلے سے طے تھی کہ وہ بنی اسماعیل میں ایک رسول مبعوث فرمائے گا جو بنی اسماعیل کے لئے بھی باعث رحمت ہوگا اور تمام خلق کے لئے بھی یہ اشارہ ان پیشین گوئیوں کی طرف سے ہے جو حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت مسیح (علیہم السلام) سے منقول ہیں اور جن کا حوالہ ان کے محل میں ہم دے چکے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اس رسول کی بعثت اسی اسکیم کے تح ہوئی ہے اور ٹھیک اس رات میں ہوئی ہے جو اس طرح کے امور مہمہ کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔