تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 6
رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ﴿6﴾
- رَحْمَةًرحمت کے طور پر
- مِّنْ رَّبِّكَتیرے رب کی طرف سے
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَ السَّمِيْعُوہ سننے والا ہے
- الْعَلِيْمُعلم والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
خاص تیرے رب کی رحمت سے۔ بیشک سننے جاننے والا وہی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رحمۃ من ربک ط انہ ھو السمیع العلیم (6)
آنحضرت صلعم کے رحمت ہونے کی طرف اشارہ
یہ ارسال رسول کا مقصد واضح فرمایا اور خطاب رسول الہ ﷺ سے ہے کہ تہارے رب نے تم کو اپنی جانب سے ایک عظیم رحمت کے طور پر مبعوث فرمایا ہے۔ اگر لوگوں نے تمہاری قدر نہ کی تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے، اپنے ہی کو اللہ کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کریں گے۔ آیت 3 میں رسول کے منذر ہونے کا ذکر تھا، اس آی میں اس کے رحمت و بشارت ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا۔ اور یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیت کے دو پہلو ہیں جو چیز سب سے بڑی رحمت ہوگی وہ سب سے بڑی نقمت بھی بن سکتی ہے اگر اس کی قدر نہ کی جائے۔
یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ انذار کے پہلو کو مقدم رکھا ہے درآنحالیکہ قرآن کے نزول اور رسول کے بعثت سے اصل مقصود خلق پر رحمت ہوتا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف، سورة کے عمود پر تقریر کرتے ہوئے، ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة کا اصل مزاج انذار ہے۔
اللہ تعالیٰ کی سمع و علم کا لازمی تقاضا
انہ ھو السمیع العلیم ان صفات کے حوالہ میں ایک پہلو یہ محلوظ ہے کہ اس کائنات کا رب ایک دانا و بینا ہستی ہے، وہ اپنی خلق کو شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے دانا و بینا ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ خلق کے حالات پر پوری نظر رکھے۔ لوگوں کو اپنے احکام و اموامر سے آگاہ کرے۔ اگر وہ ان کی تعمیل کریں تو دنیا و آخرت دونوں میں اس کا انعام دے اور اگر سرکشی کریں تو اس کی سزا دے۔ دوسرا یہ کہ اس وقت اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ قریش کے لیڈر جو کچھ کر رہے ہیں خدائے سمیع وعلیم اس سے بیخبر نہیں ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور جب ہر بات اس کے علم میں ہے اور کوئی چیز بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے تو بنی اور اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ جو کچھ اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا وہ لازماً ظہور میں آئے گا۔ کوئی چیز بھی اس کی راہ میں مزاحم نہ ہو سکے گی۔
ان آیات کے مقدرات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے سورة قصص کی آیات 46-45 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔