تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 7
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ﴿7﴾
- رَبِّ السَّمٰوٰتِرب ہے آسمانوں کا
- وَالْاَرْضِاور زمین کا
- وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان دونوں کے درمیان
- اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
- مُّوْقِنِيْنَیقین کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس رب کی رحمت سے جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کا خداوند ہے اگر تم یقین کرنے والے بنو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (7)
مخالفین کو ایک تحت و عید
یہ مخالفین کو وعید اور بڑی ہی سخت وعید ہے۔ فرمایا کہ اس انذار وتبشیر کو محض ہوائی بات نہ سجھو جو محض تم پر دھونس جمانے کے لئے کہی جا رہی ہو بلکہ یہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کے خداوند کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی ہر چیز کا مالک اور خداوند ہے تو کس کے امکان میں ہے کہ اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکے۔ اگر وہ لوگوں کو پکڑنا چاہے تو جب چاہے پکڑ لے کوئی اس کو بچا نہیں سکتا اور اگر وہ کسی کو کچھ بخشنا چاہے تو جو چاہے بخش دے کوئی اس کو چھین نہیں سکتا۔
ان کنتم موقنین یہ مخاطبوں کو ملامت ہے کہ ہے تو یہ حقیت بالکل بدیہی لیکن کسی چیز کے ماننے کے لئے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ بالکل واضح اور بدیہی ہے بلکہ یہ بھی ضروری کہ آدمی کے اندر اس کے ماننے کا ارادہ پایا جاتا ہہو۔ اگر یہ ارادہ کسی کے اندر موجود نہ ہو تو بدیہی سے بدیہی حقیقت کا بھی وہ انکار کر بیٹھتا ہے اور کوئی بڑے سے بڑا منطقی بھی اس کو قائل کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔