Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 14

  1. قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾

    1. قُلْکہہ دیجئے
    2. لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْاان لوگوں کو جو ایمان لائے
    3. يَغْفِرُوْادرگزر کریں
    4. لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے
    5. لَا يَرْجُوْنَنہیں وہ امید رکھتے
    6. اَيَّامَ اللّٰهِاللہ کے دنوں کی
    7. لِيَجْزِيَتاکہ وہ بدلہ دے
    8. قَوْمًۢاایک قوم کو
    9. بِمَابوجہ اس کے جو
    10. كَانُوْاتھے وہ
    11. يَكْسِبُوْنَکمائی کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ایمان والوں سے کہہ دو کہ ان لوگوں سے در گزر کریں جو خدا کے بڑے دنوں کے ظہور کے متوقع نہیں ہیں تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل للذین امنوا یغفروالذین لایرجون ایام اللہ لیجزی قوماً بما کانوا یکسبون 14 یغفروا، یہاں درگزر اور نظر انداز کرنے کے معنی میں ہے۔ ایام اللہ، سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جس میں اس نے رسولوں کے مکذبین کو صفحہ ارض سے نیست و نابود کیا ہے۔ قرآن میں قوموں کی جو تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی ان کی تفصیل آئے گی۔ لیجزی قوماً میں قوم سے مراد یہی مخالفین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اس لفظ کی تنکیر اظہار نفرت و بیزاری کے لئے ہے جس طرح ام علی قلوب اقفالھا میں لفظ قلوب کی تنکیر ہے جن لوگوں نے اس سے مسلمانوں کو مراد لیا ہے انہوں نے سیاق وسباق کی دلالت اور اسلوب کی بلاغت پر غور نہ کیا۔ جس طرح اوپر آیت 6 میں مخالفین کی ضد اور ہٹ دھرمی پر نبی صلی اللہ لعیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اسی طرح اس آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ مخالفین کی اوچھی حرکتوں سے وہ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ ان کو بھی نظر انداز کریں۔ ان لوگوں کو چونکہ یہ اندیشہ نہیں ہے کہ جس روز بد سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ فی الواقع ظہور میں بھی آنے والا ہے اس وجہ سے یہ دلیر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اللہ اس قابل نفرت قوم کو اس لئے ڈھیل جے رہا ہے کہ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں تاکہ یہ اپنے کئے کی بھرپور سزا پائیں۔ سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ شریروں کو پوری مہلت دیتا ہے تاکہ ان پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے اور جب وہ پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔