Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 28

  1. وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿28﴾

    1. وَتَرٰىاور تم دیکھو گے
    2. كُلَّ اُمَّةٍہر امت کو
    3. جَاثِيَةًگھٹنوں پر گری ہوئی۔ زانوؤں پر گری ہوئی
    4. كُلُّ اُمَّةٍہر امت
    5. تُدْعٰٓىبلائی جائے گی
    6. اِلٰى كِتٰبِهَاطرف اپنے اعمال نامے کے
    7. اَلْيَوْمَآج
    8. تُجْزَوْنَتم جزا دئیے جاؤ گے
    9. مَا كُنْتُمْجو تھے تم
    10. تَعْمَلُوْنَتم عمل کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم دیکھو گے ہر گرہو کو دوزانو بیٹھے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا اس کے دفتر اعمال کی طرف، ان کو بتایا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وتری کل امۃ جاثیۃ کل امۃ تدعی الی کتبھا الیوم تجزون ما کنتم تعملون 28 تصویر قیامت اس دن لوگوں کو جس صورتحال سے سابقہ پیش آئے گا یہ اس کی تصویر ہے، فرمایا کہ اس دن ہر گروہ اپنا فیصلہ سننے کے لئے روز انو بیٹھا ہوا ہوگا، ہر گوہ اپنے اپنے دفتر اعمال کی طرف پکارا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں بدلے میں وہی ملے گا جو تم دنیا میں کر کے آئے ہو۔ تریٰ اگرچہ واحد کا صیغہ ہے لیکن الم تر کی طرح اس کا خطاب بھی عام ہوسکتا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں عام ہی ہے۔ کل امۃ یعنی مومن اور کافر ابرار اور فجار اس دن سب اکٹھے ہوں گے، کوئی بھی اس حاضری سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ جاثیۃ جثایعبشوا، سے ہے۔ جثا الوجل کی تشریح اہل لغت نے یوں کی ہے کہ جلس علی رکبتیہ آدمی اپنے دونوں زانوئوں پر بیٹھا غلام، محکوم اور مجرم اپنے آقائوں اور حاکموں کے حضور میں اپنا فیصلہ سننے کے لئے اسی طرح دوزانو بیٹھتے تھے۔ کتاب یہاں دفتر اعمال کے مفہوم میں ہے۔ اس لئے کہ اس کتاب، میں گرد ہوں اور امتوں کے تمام اعمال کا ریکارڈ ہوگا جس کی موزوں تعبیر دفتر ہی سے ہو سکتی ہے۔ سورة تطنیف کی تفسیر میں انشاء اللہ اس کی وضاحت آئے گی۔ وہاں ان دفتروں کے نام بھی مذکور ہیں۔ الیوم تجزون ماکنتم تعملون الیوم سے پہلے قیل لھم (ان سے کہا جائے گا) بونبائے قرینہ محذوف ہے یعنی ہر گروہ کو ان کے اعمال سے متعلق دفتر کی طرف پکارا جائے اور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم دنیا میں کر کے آئے ہو آج تم کو وہ بدلہ میں ملے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ جس نے کیا کرا یا کچھ نہیں، صرف شرک و شفاعت کے بھروسہ پر وہ لذیذ خواب دیکھتا رہا ہے اس کے لئے یہاں محرومی کے سوا کچھ نہیں ہے۔