Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 32

  1. وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ﴿32﴾

    1. وَاِذَا قِيْلَاور جب کہا جاتا
    2. اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِبیشک وعدہ اللہ کا
    3. حَقٌّسچا ہے
    4. وَّالسَّاعَةُاور قیامت
    5. لَا رَيْبَ فِيْهَانہیں کوئی شک اس میں
    6. قُلْتُمْکہا تم نے
    7. مَّا نَدْرِيْہم نہیں جانتے
    8. مَا السَّاعَةُقیامت کیا ہوتی ہے
    9. اِنْ نَّظُنُّنہیں ہم سمجھتے
    10. اِلَّا ظَنًّامگر ایک گمان
    11. وَّمَا نَحْنُاور نہیں ہیں ہم
    12. بِمُسْتَيْقِنِيْنَیقین کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب تم سے کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ شدنی ہے اور قیامت کے باب میں کوئی شک نہیں ہے تو تم جواب دیتے کہ ہم نہیں جانت یکہ قیامت کیا ہے۔ بس ایک گمان ہے جو ہم رتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا قیل ان وعد اللہ حق والساعۃ لاریب فیھا قلتم ماندری ما الساعۃ ان نظن الاظنا وما نعن بمستیقنین 32 منکرین کا احمقانہ مطالبہ یہ ان کے استکبار کی وضاحت ہے کہ تمہارا حال یہ ہو رہا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدہ جزا و سزا شدنی اور قیامت کے واقع ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے تو تم بڑی رعونت سے یہ جواب دیتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کس چیز کا نام ہے، بس ایک گمان ہے جو ہم رکھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ جہاں تک گمان کا تعلق ہے یہ منکرین بھی اپنے دل میں رکھت تھے لیکن ان کا مطالبہ یہ تھا کہ جب ان کو اس کا پورا یقین ہوجائے گا تب وہ مانیں گے، اس یقین کے لئے ان کا ماطلبہ یہ تھا کہ ائتوا بابآئنا ان کنتم صدقین، (اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھا دو) ظاہر ہے کہ یہ ایک بالکل ہی احمقانہ مطالبہ تھا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسان صرف اسی چیز کو مانے جو اس نے آنکھوں سے دیکھی ہو۔ اس کے علاوہ کسی بات پر یقین نہ کرے خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح عقلی و اخلاقی دلائل موجود ہوں۔ اگر انسان اس حد تک مفاہمت پر اتر آئے تو پھر عقل ایک بالکل فالتو چیز بن کے رہ جاتی ہے بلکہ آدمی اور بیل میں پھر شکل و صورت کے سوا کوئی فرق ہی نہیں رہ جاتا۔ اس کے منی تو یہ ہوئے کہ انسان اپنے اندر عقل کے وجود کو بھی تسلیم نہ کرے اس لئے کہ عقل کو بھی نہ اس نے دیکھا ہے نہ چھوا ہے انسان کے اپس علوم کا جو سرمایہ ہے اس کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس کا بہت بڑا حصہ عقلی اور اخلاقی اصولوں ہی پر مبنی ہے۔ اگر محسوس پرستی کا وہ نظریہ مان لیا جائے جو ان متکبرین کے سامنے تھا تو دوسرے الفاظ میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ سارے علوم و فن کردیئے جائیں جو انسان نے اب تک پیدا کئے ہیں۔ دانش مندی کا راستہ غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی آپ پر واضح ہوگی کہ اس طرح کے اہم اور دور رس نتائج رکھنے والے امور میں ظن غالب کی رہنمائی کافی ہے۔ ایک عظیم بند جس میں شگاف پڑنے سے پورا شہر خطرہ میں پڑ سکتا ہو ہماری توجہ کا طالب اسی وقت نہیں ہوگا جب اس میں شگاف پڑجائے بلکہ عاقل لوگ اس طرح کے معاملات میں بہت پہلے سے چوکنے رہتے ہیں۔ آخرت کا معاملہ ایک نہایت اہم بلکہ اس پوری کائنات کا سب سے اہم معاملہ ہے۔ اس کے حق میں جو دلائل قرآن اور دوسرے صحیفوں میں بیان ہوئے ہیں وہ ناقابل تردید ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کوئی شخص کچھ کہہ سکتا ہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اس پر اس کو اس طرح کا یقین نہیں ہے جس طرح کا یقین آنکھوں دیکھی چیز پر ہوتا ہے۔ اگر اس طرح کا یقین نہیں ہے تو نہ ہو، یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ پوری قطعیت کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ آخرت نہیں ہے، ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ ایسی صورت میں دانشمندی کا تقاضایہ ہے کہ آدمی موازنہ کرے کہ دونوں راہوں میں سے سلامتی کی راہ کون سی ہے۔ یہ کہ آدمی فکر آخرت کو بالائے طاق رکھ کر اپنی خواہشوں کی پیروی میں زندگی گزارے اور اس بحث میں نہ پڑے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا یا یہ کہ آخرت کو مان کر، جزا اور سزا کو پیش نظر رکھتے ہوئے، زندگی گزارے اگرچہ اس کے لئے اس کو اپنی بعض خواہشوں کی قربانی بھی دینی پڑے۔ غور کیجیے تو دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی یہ دوسری راہ اختیار کرے اس لئے کہ پہلی صورت اختیار کرنے میں ایک ابدی اور دائمی خطرہ مضمر ہے اور فائدہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ آپ اپنے زعم کے مطابق اپنی خواہشوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہوں گے اگرچہ ان کا پورا ہونا آپ کے ارازہ پر منحصر نہیں ہے برعکس اس کے اس دوسری راہ میں خطرہ کوئی نہیں ہے۔ اگر آخرت ہوئی تب تو ابدی بادشاہی حاصل ہوگی اور اگر منکرین کے خیال کے مطابق نہ ہوئی تو نقصان کیا ہوگا ؟ زیادہ سے زیادہ یہی تو کہ اس فانی زندگی میں چند فانی خواہشوں کی قربانی دینی پڑی اور ان کا پورا ہونا بھی اپنے اختیار میں نہیں بلکہ کسی اور ہی کے اختیار میں تھا۔