تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 10
وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿10﴾
- وَاَنْفِقُوْااور خرچ کرو
- مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْاس میں سے جو رزق دیا ہم نے تم کو
- مِّنْسے
- قَبْلِاس (سے) پہلے
- اَنْ يَّاْتِيَکہ آجائے
- اَحَدَكُمُ الْمَوْتُتم میں سے کسی ایک کو موت
- فَيَقُوْلَ رَبِّتو کہے، اے میرے رب
- لَوْلَآکیوں نہ
- اَخَّرْتَنِيْٓتو نے ڈھیل دی مجھ کو
- اِلٰٓى اَجَلٍایک وقت تک
- قَرِيْبٍقریب کے
- فَاَصَّدَّقَتو میں صدقہ کرتا۔ خیرات دیتا
- وَاَكُنْ مِّنَاور میں ہوجاتا ، سے
- الصّٰلِحِيْنَنیکیوں میں (سے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے جو کچھ تمہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ آدھمکے تم میں سے کسی کی موت، پھر وہ حسرت سے کہے کہ اے رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور یوں نیکو کاروں میں سے بنتا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(وانفقوا من ما رزقنکم من قبل ان یاتی احد کم الموت فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب لا نا صدق واکن من الصلحین) (10)
یہ اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے، مال و اولاد کے فتنہ سے بچنے اور نفاق کے حملے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہیں بخشا ہے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی موت سے پہلے پہلے اس میں آخرت کے لیے جو کمائی کرنی ہے کرلے۔ ایسا نہ ہو کہ موت آدھمکے تب وہ حسرت کے ساتھ ہے کہ اب رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا۔ اگر ایسا کرسکتا تو میں بھی صالحین کے زمرہ میں ہوتا۔
سورة توبہ میں منافقین کے کردار کا یہ پہلو خاص طور پر نمایاں ہوا ہے کہ وہ بخل کے سبب سے اپنی مٹھیاں بھیجتے رہتے ہیں۔ جب یہ غریب تھے تو ہر جگہ یہ اپنے اس شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمارے حالات بھی سدھار دیے تو ہم اللہ کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑ خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کردی تو منہ پھیر کر چل دیئے۔ اس بخل کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں کے اندر نفاق کی جڑی جما دی اور صدقہ کر کے صالحین میں سے بننے کا جو موقع خدا نے تمہیں عطا کیا تھا وہ اس سے محروم ہوگئے۔ فرمایا ہے :
(وَ مِنْہُمْ مَّنْ عٰہَدَ اللہ لَئِنْ اٰتٰـنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْن۔ فَلَمَّآ اٰتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔ فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِہِمْ) (التوبۃ۔ 9۔ 75، 77) (اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا تو ہم خوب صدقہ کریں گے اور صالحین میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور برگشتہ ہو کر منہ پھیرلیا تو اس کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں میں نفاق جما دیا۔)
سورة حدید کی تفسیر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ انفاق سے پہلو تہی کرنے والے اس دنیا ہی میں نفاق سے آلودہ ہو کر مومنین صالحین سے ممیز نہیں ہوجاتے بلکہ آخرت میں بھی وہ اس کے نتائج سے اس طرح دو چار ہوں گے کہ صورت حال ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔ دنیا میں صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالیٰ وہاں صالحین کے اس زمرہ کے ساتھ اٹھائے گا جس میں صدیقین اور شہداء ہوں گے اور نور جن کا ہم رکاب ہو کر جنت کی طرف رہنمائی کرے گا۔ منافق مرد اور عورتیں اس نور سے حصہ نہ پا سکیں گے۔ ان کے اور صالحین کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی۔ وہاں ان پر واضح کردیا جائے گا کہ صالحین کے زمرہ میں شامل ہونے کی شرط انفاق اور صدقہ تھا جس سے دنیا میں انہوں نے گریز کیا۔ اس آیت میں آکن جو مضارع کی ساکن شکل ہے، کا عطف بظاہر فاصدق پر ہے جو منصوب ہے لیکن ہمارے نزدیک اصل میں (اکن من الصلحین) شرط مخدوف کا جواب ہے۔ اس کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر میں یہ صدقہ کرسکتا تو نیکو کاروں میں سے بنتا (فاصدق) کی صورت میں چونکہ اس شرط کا قرینہ واضح تھا اس وجہ سے اسے حذف کردیا گیا۔