Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 23

  1. اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ﴿23﴾

    1. اِلَّا بَلٰغًامگر (پیغام) پہنچانا
    2. مِّنَ اللّٰهِاللہ کی طرف سے
    3. وَرِسٰلٰتِهٖ ۭاور اسکے پیغام (جمع)
    4. وَمَنْاور جو
    5. يَّعْصِ اللّٰهَنافرمانی کریگا اللہ کی
    6. وَرَسُوْلَهٗاور اس کے رسول کی
    7. فَاِنَّتو بیشک
    8. لَهٗاس کے لئے
    9. نَارَ جَهَنَّمَجہنم کی آگ
    10. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
    11. فِيْهَآاس میں
    12. اَبَدًاہمیشہ ہمیشہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
بس اللہ کی طرف سے پہنچا دینا اور اس کے پیغاموں کی ادائیگی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کا تعلق اوپر والی آیت ’لَا أَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا‘ سے ہے۔ یعنی میں نہ تمہارے مطالبہ پر تمہیں عذاب دکھا سکتا اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ بے کم و کاست میں تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تمہیں آگاہ کر دوں۔ ’رِسَلٰتِہٖ‘ کا عطف ’بَلٰغًا‘ پر ہے۔ ’بَلَاغٌ‘ کے بعد اس لفظ کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ میرا فریضۂ منصبی صرف بے کم و کاست پہنچا دینا ہے۔ نہ بلاغ کے سوا تمہاری ہدایت و ضلالت سے متعلق مجھ پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ مجھے یہ اختیار حاصل ہے کہ تمہاری خاطر خدا کے احکام میں سرمو کوئی رد و بدل کر سکوں۔ ’وَمَنْ یَعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَإِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَدًا‘۔ یعنی یہ فرض بلاغ ادا کر دینے کے بعد میں بری الذمہ ہو جاؤں گا۔ جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑے رہیں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔