Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 49

Tafseer
  1. تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ع﴿49﴾

    1. تِلْكَیہ
    2. مِنْسے
    3. اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِغیب کی خبریں
    4. نُوْحِيْهَآہم وحی کرتے ہیں اسے
    5. اِلَيْكَتمہاری طرف
    6. مَانہ
    7. كُنْتَ تَعْلَمُهَآتم ان کو جانتے تھے
    8. اَنْتَتم
    9. وَلَااور نہ
    10. قَوْمُكَتمہاری قوم
    11. مِنْسے
    12. قَبْلِ ھٰذَااس سے پہلے
    13. فَاصْبِرْپس صبر کریں
    14. اِنَّبیشک
    15. الْعَاقِبَةَاچھا انجام
    16. لِلْمُتَّقِيْنَپر وہیزگاروں کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے محمد ؐ ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔53
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 53 یعنی جس طرح نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں ہی کا آخر کار بول بالا ہوا، اسی طرح تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا بھی ہوگا۔ خدا کا قانون یہی ہے کہ ابتداء کار میں دشمنان حق خواہ کتنے ہی کامیاب ہوں مگر آخری کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوتی ہے جو خدا سے ڈر کر فکر و عمل کی غلط راہوں سے بچتے ہوئے مقصد حق کے لیے کام کرتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت جو مصائب و شدائد تم پر گزر رہے ہیں جن مشکلات سے تم دوچار ہو رہے ہو اور تمہاری دعوت کو دبانے میں تمہارے مخالفوں کو بظاہر جو کامیابی ہوتی نظر آرہی ہے اس پر بد دل نہ ہو بلکہ ہمت اور صبر کے ساتھ اپنا کام کیے چلے جاؤ۔