Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 54

Tafseer
  1. اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ﴿54﴾

    1. اِنْنہیں
    2. نَّقُوْلُہم کہتے
    3. اِلَّامگر
    4. اعْتَرٰىكَتجھے آسیب پہنچایا ہے
    5. بَعْضُکسی
    6. اٰلِهَتِنَاہمارا معبود
    7. بِسُوْٓءٍبری طرح
    8. قَالَاس نے کہا
    9. اِنِّىْٓبیشک میں
    10. اُشْهِدُگواہ کرتا ہوں
    11. اللّٰهَاللہ
    12. وَاشْهَدُوْٓااور تم گواہ رہو
    13. اَنِّىْبیشک میں
    14. بَرِيْٓءٌبیزار ہوں
    15. مِّمَّاان سے
    16. تُشْرِكُوْنَتم شریک کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اُوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے۔“59ہُود ؑ نے کہا”میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں۔60 اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دُوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں۔61
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 59 یعنی تو نے کسی دیوی یا دیوتا یا کسی حضرت کے آستانے پر کچھ گستاخی کی ہوگی، اسی کا خمیازہ ہے جو تو بھگت رہا ہے کہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے اور وہی بستیاں جن میں کل تو عزت کے ساتھ رہتا تھا آج وہاں گالیوں اور پتھروں سے تیری تواضع ہو رہی ہے۔ سورة هُوْد 60 یعنی تم کہتے ہو کہ میں کوئی شہادت لے کہ نہیں آیا، حالانکہ چھوٹی چھوٹی شہادتیں پیش کرنے کے بجائے میں تو سب سے بڑی شہادت اس خدائی کی پیش کر رہا ہوں جو اپنی ساری خدائی کے ساتھ کائنات ہستی کے ہر گوشے اور ہر جلوے میں اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جو حقیقتیں میں نے تم سے بیان کی ہیں وہ سراسر حق ہیں، ان میں جھوٹ کا کوئی شائبہ تک نہیں اور جو تصورات تم نے قائم کر رکھے ہیں وہ بالکل افترا ہیں، سچائی ان میں ذرہ برابر بھی نہیں۔ سورة هُوْد 61 یہ ان کی اس بات کا جواب ہے کہ تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ فرمایا میرا بھی یہ فیصلہ سن رکھو کہ تمہارے ان معبودوں سے میں قطعی بیزار ہوں۔
Tafheem-ul-Quran - 11 : 54