Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 82

  1. فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ﴿82﴾

    1. فَلَمَّاپس جب
    2. جَآءَآیا
    3. اَمْرُنَاہمارا حکم
    4. جَعَلْنَاہم نے کردیا
    5. عَالِيَهَااس کا اوپر (بلند)
    6. سَافِلَهَااس کا نیچا (پست)
    7. وَاَمْطَرْنَااور ہم نے برسائے
    8. عَلَيْهَااس پر
    9. حِجَارَةًپتھر
    10. مِّنْ سِجِّيْلٍکنکر (سنگریزہ)
    11. مَّنْضُوْدٍتہہ بہ تہہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مَٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے91
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 91 غالبًا یہ عذاب ایک سخت زلزلے اور آتش فشانی انفجار کی شکل میں آیا تھا۔ زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کیا اور آتش فشاں مادے کے پھٹنے سے ان کے اوپر زور کا پتھراؤہوا۔ پکی ہوئی مٹی کے پتھروں سے مراد شاید وہ متحجد مٹی ہے جو آتش فشاں علاقے میں زیرِ زمین حرارت اور لاوے کے اثر سے پتھر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ آج تک بحرِ لوط کے جنوب او رمشرق کے علاقے میں اس انفجار کے آثار ہر طرف نمایاں ہیں۔