تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 74
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿74﴾
- وَاِنَّاور بیشک
- رَبَّكَتمہارا رب
- لَيَعْلَمُخوب جانتا ہے
- مَا تُكِنُّجو چھپی ہوئی ہے
- صُدُوْرُهُمْان کے دل
- وَمَااور جو
- يُعْلِنُوْنَوہ ظاہر کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
بلا شُبہ تیرا ربّ خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔91
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 91
یعنی وہ ان کی علانیہ حرکات ہی سے واقف نہیں ہے بلکہ جو شدید بغض اور کینہ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور جا چالیں یہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں، ان سے بھی وہ خوب واقف ہے، اس لیے جب ان کی شامت آنے کا وقت آن پہنچے گا تو کوئی چیز چھوڑی نہیں جائے گی جس پر ان کی خبر نہ لی جائے۔ یہ انداز بیان اسی طرح کا ہے جیسے ایک حاکم اپنے علاقے کے کسی بدمعاش سے کہے، مجھے تیرے سب کرتوتوں کی خبر ہے، اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے باخبر ہونے کی اسے اطلاع دے رہا ہے، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تو اپنی حرکتوں سے باز آجا، ورنہ یاد رکھ کہ جب پکڑا جائے گا تو تیرے ایک ایک جرم کی پوری سزا دی جائے گی۔