تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 18
وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿18﴾
- وَاِنْاور اگر
- تُكَذِّبُوْاتم جھٹلاؤگے
- فَقَدْ كَذَّبَتو جھٹلا چکی ہیں
- اُمَمٌبہت سی امتیں
- مِّنْ قَبْلِكُمْتم سے پہلی
- وَمَااور نہیں
- عَلَيپر (ذمے)
- الرَّسُوْلِرسول
- اِلَّامگر
- الْبَلٰغُپہنچا دینا
- الْمُبِيْنُصاف طور پر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اگر تم جھُٹلا تے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھُٹلا چکی ہیں،30 اور رسُولؐ پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 30
یعنی اگر تم میری دعوت توحید کو اور اس خبر کو کہ تمہیں اپنے رب کی طرف پلٹنا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، جھٹلاتے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں اس سے پہلے بھی بہت سے نبی (مثلا نوح، ہود، صالح (علیہم السلام) وغیرہ) یہی تعلیم لے کر آچکے ہیں اور ان کی قوموں نے بھی ان کو اسی طرح جھٹلایا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو کہ انہوں نے جھٹلا کر ان نبیوں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام خراب کیا۔