Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 17

  1. اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿17﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. تَعْبُدُوْنَتم پرستش کرتے ہو
    3. مِنْسے
    4. دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
    5. اَوْثَانًابتوں کی
    6. وَّتَخْلُقُوْنَاور تم گھڑتے ہو
    7. اِفْكًاجھوٹ
    8. اِنَّ الَّذِيْنَبیشک وہ جن کی
    9. تَعْبُدُوْنَپرستش کرتے ہو
    10. مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
    11. لَا يَمْلِكُوْنَوہ مالک نہیں
    12. لَكُمْتمہارے لیے
    13. رِزْقًارزق کے
    14. فَابْتَغُوْاپس تم تلاش کرو
    15. عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے پاس
    16. الرِّزْقَرزق
    17. وَاعْبُدُوْهُاور اس کی عبادت کرو
    18. وَاشْكُرُوْااور شکر کرو
    19. لَهٗاس کا
    20. اِلَيْهِاس کی طرف
    21. تُرْجَعُوْنَتمہیں لوٹ کر جانا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پُوج رہے ہو وہ تو محض بُت ہیں اور تم ایک جھُوٹ گھڑ رہے ہو۔28 درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔29
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 28 یعنی تم یہ بت نہیں گھڑ رہے ہو بلکہ ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ ان بتوں کا وجود خود ایک جھوٹ ہے۔ اور پھر تمہارے یہ عقائد کہ یہ دیویاں اور دیوتا ہیں، یا خدا کے اوتار یا اس کی اولاد ہیں، یا خدا کے مقرب اور اس کے ہاں شفیع ہیں، یا یہ کہ ان میں سے کوئی شفا دینے والا اور کوئی اولاد بخشنے والا اور کوئی روزگار دلوانے والا ہے، یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو تم لوگوں نے اپنے وہم و گمان سے تصنیف کرلی ہیں۔ حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہ محض بت ہیں بےجان، بےاختیار اور بےاثر۔ سورة العنکبوت 29 ان چند فقروں میں حضرت ابراہیم نے بت پرستی کے خلاف تمام معقول دلائل سمیٹ کر رکھ دیے ہیں۔ کسی کو معبود بنانے کے لیے لامحالہ کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ ایک معقول وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں معبودیت کا کوئی استحقاق رکھتا ہو۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کا خالق ہو اور آدمی اپنے وجود کے لیے اس کا رہین منت ہو۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کی پرورش کا سامان کرتا ہو اور اسے رزق یعنی متاع زیست بہم پہنچاتا ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی کا مستقبل اس کی عنایات سے وابستہ ہو اور آدمی کو اندیشہ ہو کہ اس کی ناراضی مول لے کر وہ اپنا انجام خراب کرلے گا۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ ان چاروں وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی بت پرستی کے حق میں نہیں ہے بلکہ ہر ایک خالص خدا پرستی کا تقاضا کرتی ہے۔ " یہ محض بت ہیں " کہہ کر انہوں نے پہلی وجہ کو ختم کردیا، کیونکہ جو نرا بت ہو اس کو معبود ہونے کا آخر کیا ذاتی استحقاق حاصل ہوسکتا ہے۔ پھر یہ کہہ کر کہ " تم ان کے خالق ہو " دوسری وجہ بھی ختم کردی۔ اس کے بعد تیسری وجہ کو یہ فرما کر ختم کیا کہ وہ تمہیں کسی نوعیت کا کچھ بھی رزق نہیں دے سکتے۔ اور آخری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہیں پلٹنا تو خدا کی طرف ہے نہ کہ ان بتوں کی طرف، اس لیے تمہارا انجام اور تمہاری عاقبت سنوارنا یا بگاڑنا بھی ان کے اختیار میں نہیں صرف خدا کے اختیار میں ہے۔ اس طرح شرک کا پورا ابطال کر کے حضرت والا نے یہ بات ان پر واضح کردی کہ جتنے وجوہ سے بھی انسان کسی کو معبود قرار دے سکتا ہے وہ سب کے سب اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت کے مقتضی نہیں ہیں۔