Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 50

  1. فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿50﴾

    1. فَانْظُرْپس دیکھ تو
    2. اِلٰٓىطرف
    3. اٰثٰرِآثار
    4. رَحْمَتِ اللّٰهِاللہ کی رحمت
    5. كَيْفَ يُحْىِوہ کیسے زندہ کرتا ہے
    6. الْاَرْضَزمین
    7. بَعْدَ مَوْتِهَا ۭاس کے مرنے کے بعد
    8. اِنَّبیشک
    9. ذٰلِكَوہی
    10. لَمُحْيِالبتہ زندہ کرنے والا
    11. الْمَوْتٰى ۚمردے
    12. وَهُوَاور وہ
    13. عَلٰيپر
    14. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    15. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اُٹھاتا ہے،73 یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 73 یہاں جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی اخلاقی زندگی کے لیے ویسی ہی رحمت ہے جیسی بارش کی آمد اس کی مادی زندگی کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح آسمانی بارش کے نزول سے مردہ پڑی ہوئٰ زمین یکایک جی اٹھتی ہے اور اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، اسی طرح آسمانی وحی کا نزول اخلاق و روحانیت کی ویران پڑی ہوئی دنیا کو جلا اٹھاتا ہے اور اس میں فضائل و محامد کے گلزار لہلہانے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ کفار کی اپنی بدقسمتی ہے کہ خدا کی طرف سے یہ نعمت جب ان کے ہاں آتی ہے تو وہ اس کا کفران کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مژدہ رحمت سمجھنے کے بجائے پیام موت سمجھ لیتے ہیں۔