Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 16

  1. تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ﴿16﴾

    1. تَتَجَافٰىالگ رہتے ہیں
    2. جُنُوْبُهُمْان کے پہلو
    3. عَنِسے
    4. الْمَضَاجِعِخوابگاہوں (بستروں)
    5. يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
    6. رَبَّهُمْاپنا رب
    7. خَوْفًاڈر
    8. وَّطَمَعًا ۡاور امید
    9. وَّمِمَّااور اس سے جو
    10. رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
    11. يُنْفِقُوْنَوہ خرچ کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے ربّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پُکارتے ہیں 27 ، اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔  28
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 27 یعنی راتوں کو داد عیش دیتے پھرنے کے بجائے وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کا حال ان دنیا پرستوں کا سا نہیں ہے جنہیں دن کی محنتوں کی کلفت دور کرنے کے لیے راتوں کو ناچ گانے اور شراب نوشی اور کھیل تماشوں کی تفریحات درکار ہوتی ہیں۔ اس کے بجائے ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ دن بھر اپنے فرائض انجام دے کر جب وہ فارغ ہوتے ہیں تو اپنے رب کے حضور کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کی یاد میں راتیں گزارتے ہیں۔ اس کے خوف سے کانپتے ہیں اور اسی سے اپنی ساری امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ بستروں سے پیٹھیں الگ رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ راتوں کو سوتے ہی نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راتوں کا ایک حصہ خدا کی عبادت میں صرف کرتے ہیں۔ سورة السَّجْدَة 28 رزق سے مراد ہے رزق حلال۔ مال حرام کو اللہ تعالیٰ اپنے دیے ہوئے رزق سے تعبیر نہیں فرماتا۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو تھوڑا یا بہت پاک رزق ہم نے انہیں دیا ہے اسی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس سے تجاوز کر کے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حرام مال پر ہاتھ نہیں مارتے۔