تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 27
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ﴿27﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَرَوْاانہوں نے نہیں دیکھا
- اَنَّا نَسُوْقُکہ ہم چلاتے ہیں
- الْمَآءَپانی
- اِلَىطرف
- الْاَرْضِزمین
- الْجُرُزِخشک
- فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًاپھر ہم نکالتے ہیں اس سے کھیتی
- تَاْكُلُکھاتے ہیں
- مِنْهُاس سے
- اَنْعَامُهُمْان کے مویشی
- وَاَنْفُسُهُمْ ۭاور وہ خود
- اَفَلَاتو کیا
- يُبْصِرُوْنَدیکھتے نہیں وہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کیا ان لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھاکہ ہم ایک آب و گیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں، اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں؟تو کیا انھیں کچھ نہیں سُوجھتا؟ 40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 40
سیاق وسباق کو نگاہ میں رکھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں یہ ذکر حیات بعدالموت پر استدلال کرنے کے لیے نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن میں بالعموم ہوتا ہے، بلکہ اس سلسلۂ کلام میں یہ بات ایک اور ہی مقصد کے لیے فرمائی گئی ہے۔ اس میں دراصل ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح ایک بنجر پڑی ہوئی زمین کو دیکھ کر آدمی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ بھی کبھی لہلہاتی کشت زار بن جائے گی، مگر خدا کی بھیجی ہوئی برسات کا ایک ہی ریلا اس کا رنگ بدل دیتا ہے، اسی طرح یہ دعوت اسلام بھی اس وقت تم کو ایک نہ چلنے والی چیز نظر آتی ہے، لیکن خدا کی قدرت کا ایک ہی کرشمہ اس کو وہ فروغ دے گا کہ تم دنگ رہ جاؤ گے۔