تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 30
قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ع﴿30﴾
- قُلْفرمادیں
- لَّكُمْتمہارے لیے
- مِّيْعَادُوعدہ
- يَوْمٍایک دن
- لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَنہ تم پیچھے ہٹ سکتے ہو
- عَنْهُاس سے
- سَاعَةًایک گھڑی
- وَّلَااور نہ
- تَسْتَقْدِمُوْنَتم آگے بڑھ سکتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اُسے لاسکتے ہو۔ 49
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 49
دوسرے الفاظ میں اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے تمہاری خواہشات کے تابع نہیں ہیں کہ کسی کام کے لیے جو وقت تم مقرر کرو اسی وقت پر وہ اس کام کو کرنے کا پابند ہو۔ اپنے معاملات کو وہ اپنی ہی صوابدید کے مطابق انجام دیتا ہے۔ تم اسے کیا سمجھ سکتے ہو کہ اللہ کی اسکیم میں نوع انسانی کو کب تک اس دنیا کے اندر کام کرنے کا موقع ملنا ہے، کتنے اشخاص اور کتنی قوموں کی کس کس طرح آزمائش ہونی ہے، اور کونسا وقت اللہ ہی کی اسکیم میں مقرر ہے اسی وقت پر یہ کام ہوگا۔ نہ تمہارے تقاضوں سے وہ وقت ایک سکنڈ پہلے آئے گا اور نہ تمہاری التجاؤں سے وہ ایک سکنڈ کے لیے ٹل سکے گا۔