Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 36. Yaseen · Ayah 21

  1. اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿21﴾

    1. اتَّبِعُوْاتم پیروی کرو
    2. مَنْجو
    3. لَّا يَسْئَلُكُمْتم سے نہیں مانگتے
    4. اَجْرًاکوئی اجر
    5. وَّهُمْاور وہ
    6. مُّهْتَدُوْنَہدایت یافتہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں۔ 17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یٰسٓ 17 اس ایک فقرے میں اس بندۂ خدا نے نبوت کی صداقت کے سارے دلائل سمیٹ کر رکھ دیے۔ ایک نبی کی صداقت دو ہی باتوں سے جانچی جاسکتی ہے۔ ایک، اس کا قول و فعل۔ دوسرے اس کا بےغرض ہونا۔ اس شخص کے استدلال کا منشا یہ تھا کہ اول تو یہ لوگ سراسر معقول بات کہہ رہے ہیں اور ان کی اپنی سیرت بالکل بےداغ ہے۔ دوسرے کوئی شخص اس بات کی نشاندہی نہیں کرسکتا کہ اس دین کی دعوت یہ اپنے کسی ذاتی مفاد کی خاطر دے رہے ہیں۔ اس کے بعد کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ان کی بات کیوں نہ مانی جائے۔ اس شخص کا یہ استدلال نقل کر کے قرآن مجید نے لوگوں کے سامنے ایک معیار رکھ دیا کہ نبی کی نبوت کو پرکھنا ہو تو اس کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لو۔ محمد ﷺ کا قول و عمل بتارہا ہے کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ اور پھر ان کی سعی و جہد کے پیچھے کسی ذاتی غرض کا بھی نام و نشان نہیں ہے۔ پھر کوئی معقول انسان ان کی بات کو رد آخر کس بنیاد پر کرے گا۔