Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 42

  1. لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ﴿42﴾

    1. لَّا يَاْتِيْهِاسکے پاس نہیں آتا
    2. الْبَاطِلُباطل
    3. مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِاسکے سامنے سے
    4. وَلَااور نہ
    5. مِنْ خَلْفِهٖ ۭاس کے پیچھے سے
    6. تَنْزِيْلٌنازل کیا گیا
    7. مِّنْسے
    8. حَكِيْمٍحکمت والے
    9. حَمِيْدٍسزاوار حمد
Translation · Tafheem-ul-Quran
باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے،52 یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کر دہ چیز ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 52 سامنے سے نہ آ سکنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پر براہ راست حملہ کر کے اگر کوئی شخص اس کی کسی بات کو غلط اور کسی تعلیم کو باطل و فاسد ثابت کرنا چاہے تو اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ پیچھے سے نہ آ سکنے کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کوئی حقیقت و صداقت ایسی منکشف نہیں ہو سکتی جو قرآن کے پیش کردہ حقائق کے خلاف ہو، کوئی علم ایسا نہیں آسکتا جو فی الواقع " علم " ہو اور قرآن کے بیان کردہ علم کی تردید کرتا ہو، کوئی تجربہ اور مشاہدہ ایسا نہیں ہوسکتا جو یہ ثابت کر دے کہ قرآن نے عقائد، اخلاق، قانون، تہذیب و تمدن، معیشت و معاشرت اور سیاست و تمدن کے باب میں انسان کو جو رہنمائی دی ہے وہ غلط ہے۔ اس کتاب نے جس چیز کو حق کہہ دیا ہے وہ کبھی باطل ثابت نہیں ہو سکتی اور جسے باطل کہہ دیا ہے وہ کبھی حق ثابت نہیں ہو سکتی۔ مزید برآں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ باطل خواہ سامنے سے آ کر حملہ آور ہو یا ہیر پھیر کے راستوں سے چھاپے مارے، بہرحال کسی طرح بھی وہ اس دعوت کو شکست نہیں دے سکتا جسے لے کر قرآن آیا ہے۔ تمام مخالفتوں اور مخالفین کی ساری خفیہ اور علانیہ چالوں کے علی الرغم یہ دعوت پھیل کر رہے گی اور کوئی اسے زک نہیں دے سکے گا۔