Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 18

  1. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ﴿18﴾

    1. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    2. الَّذِيْنَوہ جو
    3. حَقَّثابت ہوگئی
    4. عَلَيْهِمُان پر
    5. الْقَوْلُبات (عذاب)
    6. فِيْٓ اُمَمٍامتوں میں
    7. قَدْ خَلَتْگزر چکیں
    8. مِنْ قَبْلِهِمْان سے قبل
    9. مِّنَ الْجِنِّجنات سے
    10. وَالْاِنْسِ ۭاور انسان (جمع)
    11. اِنَّهُمْ كَانُوْابیشک وہ تھے
    12. خٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے۔ اِن  سے پہلے جِنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے)ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔22
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 22 یہاں دو طرح کے کردار آمنے سامنے رکھ کر گویا سامعین کے سامنے یہ خاموش سوال رکھ دیا گیا ہے کہ بتاؤ، ان دونوں میں سے کونسا کردار بہتر ہے۔ اس وقت یہ دونوں ہی کردار معاشرے میں عملاً موجود تھے اور لوگوں کے لیے یہ جانا کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ پہلی قسم کا کردار کہاں پایا جاتا ہے اور دوسری قسم کا کہاں۔ یہ جواب ہے سرداران قریش کے اس قول کا اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ چند نوجوان اور چند غلام اس معاملہ میں ہم سے بازی نہ لے جاسکتے تھے۔ اس جواب کے آئینہ میں ہر شخص خود دیکھ سکتا تھا کہ ماننے والوں کا کردار کیا ہے اور نہ ماننے والوں کا کیا۔