Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 59

  1. فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ﴿59﴾

    1. فَاِنَّ لِلَّذِيْنَتو بیشک ان لوگوں کے لیے
    2. ظَلَمُوْاجنہوں نے ظلم کیا
    3. ذَنُوْبًا مِّثْلَحصہ ہے، مانند
    4. ذَنُوْبِحصے کے
    5. اَصْحٰبِهِمْان کے ساتھیوں کے
    6. فَلَا يَسْتَعْجِلُوْنِپس نہ وہ جلدی کریں مجھ سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے 56 ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں۔ 57
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الذّٰرِیٰت 56 ظلم سے مراد یہاں حقیقت اور صداقت پر ظلم کرنا، اور خود اپنی فطرت پر ظلم کرنا ہے۔ سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ یہاں ظلم کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو خداوند عالم کے سوا دوسروں کی بندگی کر رہے ہیں، جو آخرت کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو دنیا میں غیر ذمہ دار سمجھ رہے ہیں، اور ان انبیاء کو جھٹلا رہے ہیں جنہوں نے ان کو حقیقت سے خبردار کرنے کی کوشش کی ہے۔ سورة الذّٰرِیٰت 57 یہ جواب ہے کفار کے اس مطالبہ کا کہ وہ یوم الجزا کہاں آتے آتے رہ گیا ہے، آخر وہ آ کیوں نہیں جاتا۔