63. Al-Munaafiqoonالمنافقون
The Hypocrites · Medinan · 11 ayahs · 2 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿1﴾
(جب منافقین تمہارے پاس آتے ہیں، کہتے ہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿2﴾
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈال بنا رکھا ہے اور وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ بیشک نہایت ہی برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿3﴾
یہ اس سبب سے ہے کہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی پس یہ سمجھنے سے عاری ہوگئے۔وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿4﴾
اور جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگتے ہیں اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو تم ان کی بات سنتے ہو لیکن ان کی مثال ایسی ہے گویا وہ لکڑی کے کندھے ہوں جنہیں دیوار سے ٹیک لگا دی گئی ہو۔ وہ ہر خطرہ اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں۔ اصلی دشمن وہی ہیں پس ان سے بچ کے رہو۔ اللہ ان کو غارت کرے ! کس طرح ان کی عقل الٹ گئی ہےوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ﴿5﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو، اللہ کا رسول تمہارے لیے استغفار کرے تو وہ اپنے سر مٹکاتے ہیں اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ غرور کے ساتھ اعراض کرتے ہیں۔سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ﴿6﴾
ان کے لیے یکساں ہے، تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو، اللہ ان کو ہرگز معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿7﴾
یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر تم لوگ اپنے مال خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہوجائے اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے لیکن منافقین نہیں سمجھتے۔یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿8﴾
کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو تو جو غالب ہیں وہ وہاں سے ان کو نکال چھوڑیں گے جو بالکل بےحیثیت ہیں، حالانکہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن یہ منافقین نہیں جانتے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿9﴾
۔ اے ایمان والو ! اللہ کی یاد سے تمہیں غافل نہ کرنے پاویں تمہارے مال اور نہ تمہاری اولاد اور جو ایسا کریں گے تو یاد رکھیں کہ وہی لوگ گھاٹے میں پڑےوَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿10﴾
اور ہم نے جو کچھ تمہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ آدھمکے تم میں سے کسی کی موت، پھر وہ حسرت سے کہے کہ اے رب ! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور یوں نیکو کاروں میں سے بنتا !وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿11﴾
اور اللہ ہرگز کسی جان کو ڈھیل دینے والا نہیں جب کہ اس کی مقررہ مدت آپہنچے گی اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔