77. Al-Mursalaatالمرسلات
The Emissaries · Meccan · 50 ayahs · 2 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ﴿1﴾
شاہد ہیں ہوائیں جن کی باگ چھوڑ دی جاتی ہے۔فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ﴿2﴾
پس وہ اڑاتی ہیں غبار ‘ اندھا دھندوَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ﴿3﴾
اور شاہد ہیں ہوائیں پھیلانے والی (بادلوں کو)۔فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ﴿4﴾
پھر وہ معاملہ کرتی ہیں جدا جدا۔فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ﴿5﴾
پھر ڈالتی ہیں یاد دہانیعُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ﴿6﴾
اتمام حجت کے طور پر یا آگاہ کردینے کو۔اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ﴿7﴾
بیشک جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ شدنی ہے۔فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ﴿8﴾
پس جب کہ ستارے بےنشان کردیئے جائیں گے ‘وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ﴿9﴾
آسمان پھٹ جائے گا ‘وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ﴿10﴾
پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گےوَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ﴿11﴾
اور رسولوں کے لئے وقت مقرر ہوگا…لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ﴿12﴾
کس دن کے لئے وہ ٹالے گئے ہیں !لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ﴿13﴾
فیصلہ کے دن کے لئے !وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ﴿14﴾
اور تم کیا سمجھے کیا ہے فیصلہ کا دن !وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿15﴾
تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی !اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿16﴾
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ﴿17﴾
پھر ان کے پیچھے پچھلوں کو نہیں لگاتے رہے ہیں ؟كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ﴿18﴾
ہم مجرموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿19﴾
ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے !اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ﴿20﴾
کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ؟فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ﴿21﴾
پس ہم نے اس کو رکھا ایک محفوظ مقام میں۔اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ﴿22﴾
ایک معین مدت تک۔فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ﴿23﴾
پس ہم نے اس کو ٹھہرایا اور ہم کیا ہی خوب ٹھہرانے والے ہیں !وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿24﴾
خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی !اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ﴿25﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ رکھنے والی نہیں بنایااَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ﴿26﴾
زندوں اور مردوں کو ؟وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ﴿27﴾
اور گاڑے اس میں پہاڑ اونچے اور پلایا تم کو پانی خوشگوار ؟وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿28﴾
ہلاکی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے !اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ﴿29﴾
چلو اس کی طرف جس کو جھٹلاتے رہے ہو۔اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ﴿30﴾
چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف۔لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ﴿31﴾
جس میں نہ چھائوں ہے نہ شعلوں کی لپٹ سے بچائوں۔اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ﴿32﴾
وہ آگ اونچے محلوں کی طرح شعلے پھینکتی ہوگی…كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ﴿33﴾
زرداونٹوں کی مانندوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿34﴾
… اس دن جھٹلانے والوں کو خرابی ہے !هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ﴿35﴾
وہ دن منہ سے بات نکالنے کا نہ ہوگاوَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ﴿36﴾
اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ کوئی عذر پیش کرسکیں۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿37﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے !هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ﴿38﴾
یہ ہے فیصلہ کا دن۔ ہم نے تم کو بھی اور اگلوں کو بھی جمع کرلیا۔فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ﴿39﴾
تو تمہارے پاس کوئی دائو ہے تو وہ ہم سے کردیکھو۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ع﴿40﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے !اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿41﴾
بیشک اللہ سے ڈرنے والے سایوں ‘ چشموںوَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَؕ﴿42﴾
اور اپنی چاہت کے میووں کے عیش میں ہوں گے۔كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿43﴾
کھائو پیو راس آتا اپنے اعمال کے صلہ میں۔اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿44﴾
ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿45﴾
اس دن ہلاکی ہے جھٹلانے والوں کے لئے !كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ﴿46﴾
تم بھی کچھ دن کھابرت لو ‘ تم تو ہو گنہگار۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿47﴾
اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کے لئے۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ﴿48﴾
اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اپنے رب کے آگے جھکو تو نہیں جھکتے۔وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ﴿49﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہےفَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿50﴾
اب اس کے بعد وہ بھلا کس چیز پر ایمان لائیں گے !