91. Ash-Shamsالشمس
The Sun · Meccan · 15 ayahs · 1 rukus · Nazar Ahmed
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ﴿1﴾
- وَالشَّمْسِسورج کی قسم
- وَضُحٰىهَااور اس کی روشنی
سورج اور اُس کی دھوپ کی قسموَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ﴿2﴾
- وَالْقَمَرِاور چاند کی
- اِذَاجب
- تَلٰىهَااسکے پیچھے نکلے
اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہےوَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ﴿3﴾
- وَالنَّهَارِاور دن کی
- اِذَاجب
- جَلّٰىهَاوہ روشن کردے
اور دن کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) نمایاں کر دیتا ہےوَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ﴿4﴾
- وَاللَّيْلِاور رات کی
- اِذَاجب
- يَغْشٰىهَااسے ڈھانپ دے
اور رات کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) ڈھانک لیتی ہےوَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ﴿5﴾
- وَالسَّمَآءِاور آسمان کی
- وَمَا بَنٰىهَااور جس نے اسے بنایا
اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیاوَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ﴿6﴾
- وَالْاَرْضِاور زمین کی
- وَمَااور جس نے
- طَحٰىهَااسے پھیلایا
اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایاوَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ﴿7﴾
- وَنَفْسٍاور نفس (انسان) کی
- وَّمَا سَوّٰىهَااور جس نے اسے درست کیا
اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیافَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ﴿8﴾
- فَاَلْهَمَهَااس کے دل میں ڈالی
- فُجُوْرَهَااس کا گناہ
- وَتَقْوٰىهَااور اس کی پرہیزگاری
پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دیقَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ﴿9﴾
- قَدْ اَفْلَحَکا میاب ہوا
- مَنْجس نے
- زَكّٰىهَااس کو پاک کیا
یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیاوَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ﴿10﴾
- وَقَدْاور تحقیق
- خَابَنامراد ہوا
- مَنْجس نے
- دَسّٰىهَااسے خاک میں ملایا
اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیاكَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ﴿11﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- ثَمُوْدُثمود
- بِطَغْوٰىهَآاپنی سرکشی
ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایااِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ﴿12﴾
- اِذِ انْۢبَعَثَجب اٹھ کھڑا ہوا
- اَشْقٰىهَااس کا بدبخت
جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اٹھافَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ﴿13﴾
- فَقَالَتو کہا
- لَهُمْان سے
- رَسُوْلُ اللّٰهِاللہ کے رسول
- نَاقَةَ اللّٰهِاللہ کی اونٹنی
- وَسُقْيٰهَااور اس کی پانی کی باری
تو اللہ کے رسول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار، اللہ کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اوراُس کے پانی پینے (میں مانع نہ ہونا)فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ﴿14﴾
- فَكَذَّبُوْهُپھر اس کو جھٹلایا
- فَعَقَرُوْهَاپھر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں
- ١ فَدَمْدَمَپھر ہلاکت ڈالی
- عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْان پر۔ ان کا رب
- بِذَنْۢبِهِمْانکے گناہ کے سبب
- فَسَوّٰىهَاپھر انہیں برابر کردیا
مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا آخرکار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیاوَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ع﴿15﴾
- وَلَا يَخَافُاور وہ نہیں ڈرتا
- عُقْبٰهَاان کا انجام
اور اسے (اپنے ا س فعل کے) کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے