Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 59

  1. اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا﴿59﴾

    1. الَّذِيْاور جس نے
    2. خَلَقَپیدا کیا
    3. السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
    4. وَالْاَرْضَاور زمین
    5. وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان دونوں کے درمیان
    6. فِيْمیں
    7. سِتَّةِ اَيَّامٍچھ دنوں
    8. ثُمَّ اسْتَوٰيپھر قائم ہوا
    9. عَلَي الْعَرْشِعرش پر
    10. اَلرَّحْمٰنُجو رحم کرنے والا
    11. فَسْئَلْتو پوچھو
    12. بِهٖاس کے متعلق
    13. خَبِيْرًاکسی باخبر
Translation · Aasan Quran
وہ ذات جس نے چھ دن میں سارے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں پیدا کیں، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا (19) وہ رحمن ہے، اس لیے اس کی شان کسی جاننے والے سے پوچھو۔
Tafseer · Aasan Quran
19:”استواء“ کے لفظی معنی سیدھا ہوجانے اور مضبوطی سے بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا کیا مطلب اور اس کی کیا کیفیت ہے ؟ یہ بات ہماری محدود عقل سے ماورا ہے، اور ان متشابہات میں سے جن کا ذکر سورة آل عمران کے بالکل شروع میں آیا ہے۔ اس لیے اس پر جوں کا توں ایمان رکھنا چاہیے۔ اور اس کی کیفیت کی تحقیق و جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے۔