Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 227

  1. اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ع﴿227﴾

    1. اِلَّامگر
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اٰمَنُوْاایمان لائے
    4. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
    5. الصّٰلِحٰتِاچھے
    6. وَذَكَرُوا اللّٰهَاور اللہ کو یاد کیا
    7. كَثِيْرًابکثرت
    8. وَّانْتَصَرُوْااور انہوں نے بدلہ لیا
    9. مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
    10. مَا ظُلِمُوْاکہ ان پر ظلم ہوا
    11. وَسَيَعْلَمُاور عنقریب جان لیں گے
    12. الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
    13. ظَلَمُوْٓاظلم کیا
    14. اَيَّکس
    15. مُنْقَلَبٍلوٹنے کی جگہ (کروٹ)
    16. يَّنْقَلِبُوْنَوہ الٹتے ہیں (انہیں لوٹ کر جانا ہے
Translation · Aasan Quran
ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا۔ (54) اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
54: یہ استثناء ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ اگر شاعری میں یہ خرابیاں نہ ہوں اور ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شاعری کرے اور اپنے شاعرانہ تخیلات کو دین و مذہب کے خلاف استعمال نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ظلم کا بدلہ لینے کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں شاعری پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی تھی، کوئی شاعر کسی کے خلاف کوئی شاندار ہجویہ قصیدہ کہہ دیتا تو وہ لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتا تھا، چنانچہ بعض بد نہاد کافروں نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی اس قسم کے اشعار کہہ کر مشہور کردئے تھے، بعض صحابہ مثلاً حضرت حسان بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ کی شان میں نعتیہ قصیدے کہے اور ان میں کفار کے اعتراضات کا جواب دیا ؛ بلکہ ان کی اپنی حقیقت واضح فرمائی، اس آیت میں ان حضرات کی شاعری کی تائید کی گئی ہے۔