آسان قرآن
Aasan Quran · 27. An-Naml · Ayah 40
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ﴿40﴾
- قَالَکہا
- الَّذِيْاس نے جو
- عِنْدَهٗاس کے پاس
- عِلْمٌعلم
- مِّنَسے۔ کا
- الْكِتٰبِکتاب
- اَنَامیں
- اٰتِيْكَ بِهٖمیں اس کو تمہارے پاس لے آؤں گا
- قَبْلَقبل
- اَنْ يَّرْتَدَّکہ پھر آئے
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- طَرْفُكَتمہاری نگاہ (پلک جھپکے)
- فَلَمَّا رَاٰهُپس جب سلیمان نے اس دیکھا
- مُسْتَقِرًّارکھا ہوا
- عِنْدَهٗاپنے پاس
- قَالَاس نے کہا
- ھٰذَایہ
- مِنْسے
- فَضْلِ رَبِّيْمیرے رب کا فضل
- لِيَبْلُوَنِيْٓتاکہ مجھے آزمائے
- ءَاَشْكُرُآیا میں شکر کرتا ہوں
- اَمْ اَكْفُرُیا ناشکری کرتا ہوں
- وَمَنْاور جس
- شَكَرَشکر کیا
- فَاِنَّمَاتو پس وہ
- يَشْكُرُشکر کرتا ہے
- لِنَفْسِهٖاپنی ذات کے لیے
- وَمَنْاور جس
- كَفَرَناشکری کی
- فَاِنَّتو بیشک
- رَبِّيْمیرا رب
- غَنِيٌّبےنیاز
- كَرِيْمٌکرم کرنیوالا
Translation · Aasan Quran
جس کے پاس کتاب کا علم تھا، وہ بول اٹھا : میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ (14) چنانچہ جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےنیاز ہے، کریم ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
14: قرآن کریم نے اس شخص کا تعین نہیں فرمایا، صرف اتنا کہا ہے کہ اس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ بظاہر اس کتاب سے مراد تورات ہے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ حضرت سلیمان ؑ کے وزیر آصف بن برخیا تھے اور ان کو اسم اعظم کا علم حاصل تھا جس کی بنا پر انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس کی برکت سے پلک جھپکنے کی دیر میں تخت وہاں لے آئیں گے۔ دوسری طرف امام رازی وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد خود حضرت سلیمان ؑ ہیں۔ کیونکہ کتاب کا جتنا علم ان کو حاصل تھا، اتنا کسی اور کو نہیں تھا، اور شروع میں تو آپ نے اہل دربار اور خاص طور پر جنات کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ کون ہے جو اس ملکہ کا تخت اس کے آنے سے پہلے ہی یہاں لے آئے، لیکن اس سے ان کا مقصد جنات کا غرور توڑنا تھا۔ چنانچہ جب ایک جن نے بڑے فخریہ انداز میں یہ کہا کہ میں دربار ختم ہونے سے پہلے ہی تخت لے آؤں گا تو اس پر حضرت سلیمان ؑ نے خود یہ فرمایا کہ تم تو دربار ختم ہونے کی بات کر رہے ہو، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہوگی، اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وہ تخت وہاں حاضر کرا دیا۔